تیجہ، چہلم، برسی کے کھانے کا حکم اور میت والے گھر کے پانی و کھانے سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ
فاتحہ، تیجہ، چہلم یا برسی وغیرہ کرے اور اس میں کھانے کا اہتمام بھی کرے اور اپنے امیر غریب سبھی رشتہ داروں اور دوستوں نیز محلہ کے لوگوں کو مدعو کرے اور انہیں کھانا کھلائے جبکہ یہ بھی کام صاحب خانہ اپنی مرضی سے کرے اس پر کوئی دباؤ بھی نہ ہو تب ایسی صورت میں وہ کھانا ہر امیر وغریب کھا سکتا ہے یا نہیں کھا سکتا ؟ جسے وہ کھلائے جبکہ نہ کھانے کی صورت میں صاحب خانہ کو ملال ہوتا ہے۔ یہاں کچھ مولوی حضرات کا یہ کہنا ہے کہ کھانا ہر کسی کیلئے حلال نہیں بلکہ صاحب خانہ کی مرضی اور خوشی کے باوجود بتاتے ہیں کہ یہ کھانا حرام ہے اور صرف محتاج ہی کھا سکتے ہیں بلکہ خودان مولویوں کا کہنا ہے کہ یہ کھانا واجبی صدقہ نہیں بلکہ صدقہ نفلی ہے اور نفلی صدقہ کسی کے لئے حرام نہیں اور نہ کوئی گناہ ہی ہے جبکہ کھانے والا ذاتی طور پر اس بات کا خواہش مند نہ ہو کہ یہ کھانا مجھے کھلائے نیز یہ مولوی یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ اپنے گھر آئے مہمان کو جو کچھ میز بان کھلاتا پلاتا اور خاطر تواضع کرتا ہے سبھی کچھ نفلی صدقہ میں شمار ہوتا ہے اور وہ ضیافت امیر مہمان کو بھی جائز ہے اور غریب کو بھی اور اگر صاحب خانہ چاہے تو اس کا ثواب کسی کو بخش سکتا ہے لہذا تیجہ چہلم ، برسی وغیرہ کی فاتحہ کرنا اور اس کھانے کو کھانا جبکہ اپنی جانب سے اس کے کھانے کی تمنا نہ ہو جائز ہے اور اس کا ثواب میت کی روح کو ضرور پہنچتا ہے اور کوئی کھانا حرام نہیں ہوا کرتا جبکہ وہ حرام طریقہ سے حاصل نہ کیا جاوے صحیح حکم سے مطلع فرمائیں۔ (۲) گھر میں اگر کوئی مرجاتا ہے تو لوگ گھڑے وغیرہ دیگر برتنوں میں رکھا پانی پھینک دیتے ہیں سے پینے کے لائق نہیں سمجھتے اگر کھانا پک رہا ہے یا پکا رکھا ہے تو اسے جانوروں کو کھلا دیتے ہیں اور اسے کھانے کے لائق نہیں سمجھتے اسکی کیا حقیقت ہے۔ المستفتی محمد منہاج اللہ خاں ساکن کھمبول پوسٹ بجلیا بزرگ ضلع کھیری
الجواب: (1) عرف عام پر بنظر شاہد کہ چہلم وغیرہ کے کھانے پکانے سے لوگوں کا مقصود میت کو ثواب پہنچانا ہوتا ہے اس لئے فعل کرتے ہیں چنانچہ اسے فاتحہ کا کھانا چہلم کی فاتحہ وغیر ہ کہتے ہیں اور بلاشبہ اس نیت سے کھانا پکانا کا رخیر ہے اور تحقیق یہ ہے کہ صرف فقراہی پر ایسے کھانوں کے تصدق میں ثواب نہیں بلکہ اغنیا کو کھلا نا بھی ثواب کا کام ہے۔ حضور پرنورسید عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ،، ” في كل ذات كبد حر جزاء (1) ہر گرم جگر میں ثواب ہے یعنی جس زندہ کو کھانا کھلائے گا، پانی پلائے گا ، ثواب پائے گا اخرجہ البخاری و مسلم عن ابي هريرة و احمد عن عبد الله بن عمر و ابن ماجه فی سراقہ بن مالک رضی اللہ عنھم۔ حدیث میں ہے ، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: فيما ياكل ابن آدم أجر وفيما ياكل البسع أو الطير أجر () جو کچھ آدمی کھا جائے اس میں ثواب ہے اور جو درندہ کھا جائے اس میں ثواب ہے جو پرند کو پہنچے اس میں ثواب ہے۔ رواہ الحاکم عن جابر بن عبد الله رضی الله تعالى عنهما و صحح سنده بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ما اطعمت زوجك فهو لك صدقة وما اطعمت والدك فهو لك صدقة وما اطعمت خادمک فهو لك صدقة و ما اطعمت نفسک فهو لک صدقه (۳) جو کچھ تو اپنی عورت کو کھلائے وہ تیرے لئے صدقہ ہے اور جو کچھ اپنے بچوں کو کھلائے وہ تیرے لئے صدقہ ہے اور جو کچھ اپنے خادم کو کھلائے وہ تیرے لئے صدقہ ہے اور جو کچھ تو خود کھائے وہ تیرے لئے صدقہ ہے ۔ اخرجه الامام احمد والطبراني في الكبير لسند صحيح عن المقدار بن سعد يكرب رضی الله تعالى عنه رد المحتار میں بحر الرائق سے ہے: صرح في الذخيرة بان في التصدق على الغنى نوع قربة دون قربة الفقير (م) در مختار میں ہے:الصدقة لا رجوع فيها ولو على غنى لان المقصود فيها الثواب ملتقطاً)مجمع بحار الانوار میں توسط شرح سنن ابو داؤد سے ہے:"الصدقة ما تصدقت به على الفقراء اى غالب او اعها فانها على الغنى جائزة عندنايثاب به بلاخلاف “(۲)اور مدار کار نیت پر ہے:انما الاعمال بالنيات (۳)تو جو کچھ کھانا فاتحہ کیلئے پکایا گیا بلاتے وقت اسے بلفظ دعوت تعبیر کرنا اس نیت کو باطل نہ کر یگا جیسے کسی نے اپنے محتاج بھائی بھتیجوں کو عید کے دن کچھ روپیہ میں زکوۃ کی نیت اور زبان سے عیدی کا ناملیکر دیا تو زکوۃ ادا ہو گئی عیدی کہنے سے وہ نیت باطل نہ ہوئی کما نصوا عليه في عامة الكتب معتبرا، اپنے قریبوں عزیزوں کی مواسات بھی مثل صلۂ رحم موجب ثواب ہے اگر چہ وہ اغنیاء ہوں اور آدمی جس امر پر خود ثواب پائے وہ کوئی فعل ہو اسکا ثواب میت کو پہنچ سکتا ہے۔ الأصل أن كل من أتى بعبادة ماله جعل ثوابها لغيره وان نواها عند الفعل لنفسه لظاهر الأدلة (٢) یہاں سے ظاہر ہوا کہ اس فاتحہ کا کھانا غنی کیلئے حرام نہیں اسے بھی کھلا سکتے ہیں اور دعوت بھی دے سکتے ہیں اگر چہ افضل یہی ہے کہ صرف فقرا پر تصدیق کرے کہ مقصود ثواب ہے تو صرف فقیروں کو کھلا نا مناسب تر ہے کہ اس میں ثواب اکثر ہے پھر بھی اصل مقصود مفقود نہیں جبکہ نیت ثواب پہنچانا ہے۔ وہاں جسے یہ مقصود ہی نہ ہو بلکہ محض فخر و مباہات و نام ونمود کا قصد ہو تو اسکی حرمت میں اصلا کلام نہیں ۔ حدیث صحیح میں ہے: نهى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم عن طعام الميت بين قال المناوى اى المتارخين بالضيافةفخراورياء لانه مارياء لالله (1) یعنی جو کھانے تفاخر ور یا کیلئے پکائے جاتے ہیں ان کے کھانے سے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ اخرجہ ابو داؤدو الحاکم باسناد صحیح۔ اور جو کھانے بے نیت ایصال ثواب محض دعوت و مہمانداری کے طور پر شادیوں کے کھانے کی طرح پکاتے ہیں انہیں ثواب سے کچھ علاقہ نہیں ایسی دعوت کو قبول نہ کرنا چاہئے کہ ایسی دعوتوں کا محل شادیاں ہیں نہ نمی والہذا علماء فرماتے ہیں کہ یہ بدعت سیئہ ہے مگر بے دلیل واضح کسی مسلمان کے لئے یہ سمجھ لینا کہ یہ کام اس نے تفاخر وناموری کیلئے کیا ہے، جائز نہیں کہ قلب کا حال اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور مسلمان پر بد گمانی حرام ۔ مراقی الفلاح وغیرہ کتب مستندہ میں ہے: وهذا لفظ المراقى: وتكره الضيافة من اهل الميت لانها شرعت في السرور لافي الشرور وهي بدعة مستقبحة وقال عليه السلام لا عقر فى الاسلام وهو الذي كان يعقر عند القبر بقرة اوشاة “(۲) بالجملہ ثواب پہنچانے کی نیت سے کھانا پکانا کھلانا، اسکی دعوت دینا جائز و مستحسن ہے بلکہ خود حدیث سے مسنون ہے۔ طحطاوی علی المراقی میں ہے: على انه قد عارضه ما رواه الامام احمد ایضا بسند صحیح ، و ابو داؤد عن عاصم بن كليب عن ابيه عن رجل من الانصار قال (( خرجنا مع رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم)) في جنازة فلما رجع استقبلة داعى امرأته فجاء وجئ بالطعام فوضع يده، ووضع القوم فاكلوا و رسول الله صلى الله تعالی علیه وسلم یلوک اللقمة في فيه)) الحديث فهذا يدل على اباحة صنع اهل الميت الطعام، والدعوة اليه - الخ“ (1) یعنی اہل میت کی طرف سے مہمانداری کی کراہت کا حکم جو او پر گز را، اُسکے معارض وہ حدیث ہے جسے امام احمد اور ابو داؤد نے عاصم بن کلیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی اور ایک صحابی انصاری سے راوی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ کے پیچھے نکلے تو جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام پلٹے میت کی عورت کا قاصد حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے رو برو حاضر ہوا اور دعوت دی تو سر کار اس کے یہاں تشریف لائے اور کھانا حاضر کیا گیا تو سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے اس میں دست اقدس رکھا اور لوگوں نے اپنے ہاتھ اس میں رکھے تو لوگوں نے وہ کھانا کھایا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام نوالہ کو اپنے دہن اقدس میں چہار ہے تھے تو یہ حدیث کھانا پکا کر اہل میت کی طرف سے دعوت دینے کی اباحت پر دلالت فرماتی ہے نیز اسی طحطاوی میں ہے: وفى شرعة الاسلام والسنة أن يتصدق ولى الميت له قبل مضى الليلة الاولى بشئ مما تيسر له فان لم يجد شيئا فليصل ركعتين ثم يهد ثوابهما له قال ويستحب أن يتصدق على الميت بعد الدفن الى سبعة أيام كل يوم بشئ مماتيسر - اه (۲) هذا كله ملخص ما في الفتاوى الرضوية بتصرف وزيادة منا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) پانی پھینکنا نا جائز و گناہ اور وہ خیال محض بے ہودہ خیال ہے جسے دور کرنالازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا از هری قادری غفرله (1) حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح كتاب الصلوة باب الجنائز، فصل في حملها و دفتها ص دار الكتب العلمية بيروت (4) حاشية الطحطاوي على مراقی الفلاح كتاب الصلوۃ، باب الجنائز ، فصل في حملها ودفنها، ص۶۱۷، دار الكتب العلمية بيروت