وہابی کی شہادت پر عید کا اعلان کرنے اور چندہ لے کر حج کرنے والے امام کا حکم
پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ اور اُن امام کو کون سے مسلک کا سمجھنا چاہئے؟ عوام بہت پریشان ہیں ۔ مستفتین : مسلمانان چندر پور/ معرفت شاکر علی باشم بھائی کی جال، سوسیل نگر کالا ضلع دھرابی ممبئی 40001
الجواب: (1) صورت مسئولہ میں محض اس وجہ سے امام مذکور پر کوئی الزام نہیں اور ان کی امامت ناجائز نہ ہوگی۔ جب تک کہ کوئی مانع شرعی محقق نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ ہاں ، اگر شرعی طور پر ثابت ہو جائے کہ اس نے اعلان میں تساہل بدعقیدگی کی وجہ سے کیا تو ضرور ملزم ہے اور اس کی امامت شرع نا جائز وحرام۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صورت مسئولہ میں وہابی کی شہادت قبول کرنا جائز نہ تھا اور اس پر عید کا حکم دینا گناہ اور اگر وہابی کو دانستہ لائق شہادت و مسلمان جانا تو امام مذکور سخت ملزم ہوا، اس پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی لازم اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی فرض اور بعد تو بہ تا صلاح حال وہ امامت سے معزول کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) حج کے لئے چندہ لوگوں نے اسے از خود کر کے دیا، یا اس نے سوال کیا، پہلی صورت میں الزام نہیں اور دوسری صورت میں وہ گنہ گار ہوا، اور حج بہر حال ہو گیا جبکہ وہ سن صحیح العقیدہ ہو، اور بے وجہ شرعی اپنی تعریف آپ کرنا حرام ہے اور جھوٹی تعریف کرنا اور زیادہ موجب وبال ہے اور بے علم کو تقریر کرنا جائز نہیں ۔ جس کے بابت یہ امور ثابت ومشتہر ہوں، وہ لائق امامت نہیں اور اس کی اقتد امکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ صفر المظفر ۱۴۰۸ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی