قرآن غلط پڑھنے والے اور امامت کو وراثت سمجھنے والے کے پیچھے نماز کا حکم
قبلہ مفتی صاحب ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) زید ایک گاؤں کا امام ہے جو نہایت ہی جاہل ہے، جس کو یہ بھی نہیں معلوم کہ نماز کی پہلی رکعت میں بڑی سورت پڑھنی چاہئے کہ دوسری رکعت میں چھوٹی یا بڑی پڑھنی چاہئے ، کچھ بھی معلوم نہیں اور نماز میں سورتیں پڑھتا ہے، بہت غلط پڑھتا ہے، ایسی حالت میں ایسے کو امام بنانا صحیح ہے یا نہیں؟ (۲) زید کے والد محترم پہلے امام تھے، پڑھے لکھے تھے، حاجی بھی تھے، گاؤں کے پردھان بھی تھے، حق اور ناحق بھی پہچانتے تھے، اس وجہ سے وہ امام تھے کہ اس وقت ان سے زیادہ پڑھا لکھا اس گاؤں میں کوئی نہیں تھا، اب زید کہتا ہے کہ والد صاحب کی وراثت ہے اس لئے میں امام رہوں گا۔ اس گاؤں میں ایک حافظ قرآن ہے اس کو نماز پڑھانے نہیں دیتا ہے۔ ایسی حالت میں زید کے پیچھے حافظ قرآن کی یا جو زید سے زیادہ پڑھا لکھا ہے، جو یہ جانتا ہے کہ زید نماز صحیح نہیں پڑھاتا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟
(۱، ۲) زید اگر غلط پڑھتا ہے تو اس کے پیچھے کسی کی نماز درست نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم