جبر انسبندی کیا جانے والا ملزم نہیں اور اس کی امامت کا حکم اور حضرت امام حسین کا عمل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: بکر کی باتوں ہی باتوں میں پولیس سے کچھ حجت ہو گئی اور پولیس بکر کو گرفتار کر کے نسبندی اسپتال میں لے گئی اور ان سے کہا کہ نسبندی کرانی ہے اور کچھ دھمکایا، ڈر کے مارے بکر نے نسبندی کرالی۔ اب عوام بکر کو امام تسلیم کر کے ان کے پیچھے نماز پڑھارہی ہے۔ اور کچھ لوگ کہہ رہے ہیں انسو بدی کرانے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوگی اس لئے کہ بکر اپنی جان کو پیاری جان کر شرع میں نقص ظاہر کیا، اگر شرع سے زیادہ پیاری جان ہوتی تو سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک لمحہ کے لئے یزید کو منظور کر لیتے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ہم مسلمانوں کو سبق بتا کر گئے ہیں، بکر کے پیچھے نماز نہیں ہوگی اس لئے کہ اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے خلاف کام کیا۔ از روئے شرع کیا حکم ہے؟ کیا بکر کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اور اس کو امام تسلیم کر سکتے ہیں؟ مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ لمستفتی عظیم الدین مسکوسبدھرن ضلع بریلی (یوپی)
الجواب: صورت مسئولہ میں بکر اگر واقعی مجبور کیا گیا تو اس پر الزام نہیں اور اس کے پیچھے نماز میں اس وجہ سے کراہت نہ ہوگی اور بکر پر عوام کا اعتراض غلط ہے، بکر نے شرع کی رخصت پر عمل کیا اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رخصت چھوڑ کر عزیمت پر عمل فرمایا جو اُن کے مقام رفیع کے مناسب تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم تنبیہ: ”ص، رض“ بنانا مکروہ وناجائز ہے، پورا در و داور ”رضی اللہ عنہ لکھنا چاہئے ۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴/ ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ