سلام کوفتنہ وفساد کہاوہابیت کی علامت ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: (1) کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے کہ جو یہ کہتا ہو کہ آج کل سلام پڑھنا تصنع اور دکھاوا ہے بلکہ سلام ہی فتنہ وفساد کی جڑ بنیاد ہے۔ کیا ایسا امام سنی ہے (جیسا کہ یہ امام صاحب سنی مشہور ہیں ) ۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اس سوال کا جواب پہلے دیا جا چکا ہے، سلام کو فتنہ و فساد کہنا وہابی ہونے کی علامت ہے اور کفری بول ہے، ایسا امام سنی نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷/ ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۶۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
وہابیہ کے عقائد، ان سے میل جول اور غیر مسلم تہواروں میں شرکت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
ایک وظیفہ پڑھنے کا حکم اور یک چشم شخص کی امامت کا مسئلہ
باب: کتاب الصلوٰۃ
بلا وجہ شرعی امام سے کراہت رکھنے کا وبال اور مقتدی کی نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
قرآن غلط پڑھنے والے اور امامت کو وراثت سمجھنے والے کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
غیر مقلد نالائق امامت ہے، اعلیٰ حضرت کی تعلیم اور ایک طلاق کا مسئلہ
باب: کتاب الصلوٰۃ