غیر مقلد نالائق امامت ہے، اعلیٰ حضرت کی تعلیم اور ایک طلاق کا مسئلہ
بخدمت حضرت علامہ مفتی اختر رضا خان، قائم مقام مرشدی حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) چھوٹی مسجد ، گونا کے پیش امام تکبیر کھڑے ہو کر سنتے ہیں اور ساتھ ہی گلے کے اوپر کا بٹن کھولے ہوئے نماز پڑھا رہے تھے، اس بنا پر ہم نے معلوم کیا کہ کس مسلک کو مانتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں کسی مسلک کو نہیں مانتا، اسلام کو مانتا ہوں اور پوچھا کہ آپ کس سلسلہ سے بیعت ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں خود پیر ہوں، اور اس کے بعد ہی کہنے لگے کہ میں اپنے استاد سے بیعت ہوں ۔ یعنی یہ الفاظ تب کہے تھے جب کہ کئی لوگوں نے کہا کہ اب آپ اس لائق نہیں کہ امامت کریں، اس کے بعد انہوں نے استاد کی بیعت بتائی اور انہوں نے یہ کہا کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلی شریف نے دیوبند کے مدرسہ میں تعلیم پائی ہے اور میں اہل حدیث ہوں میں تقلید نہیں کرتا ہوں اور میں تبلیغ کرتا ہوں اور تبلیغیوں کے ساتھ آتا جاتا ہوں، دیو بند بریلی نہیں جانتا۔ لہذا حضرت سے توقع ہے کہ ان باتوں کا جواب ٹھوس اور جلدی عطافرمائیں گے تاکہ وہاں کی عوام جو سنی ہے، ان کے خیالات نہ بدل سکیں۔ (۲) اور ایک شخص نے اپنی بیوی کو خط میں طلاق دی ہے، یہ لکھا ہے کہ طلاق دی گئی ، ایک مرتبہ کہنے یا لکھنے سے طلاق واقع ہوگئی یا نہیں ؟ فقط والسلام ! المستفتی : نبی بخش
الجواب: (۱) (1) و شخص اقراری غیر مقلد ہے اور غیر مقلدین وہابیہ بے دین ہیں بلکہ دیو بندی نوازی اس کی ظاہر ہے جس سے اس کا دیو بندی ہونا عیاں ہے اور دیوبندی حسب حکم علمائے حرمین ایسے کا فربے دین ہیں کہ جو اُن کے کفر پر مطلع ہو کر اُن کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے، اس کی اقتد محض باطل ہے اور اس سے سخت پر ہیز فرض ہے اور اعلیٰ حضرت نے دیو بند میں تعلیم نہیں پائی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہاں ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی ، عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گار مردوں کے سامنے کہے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ