بد مذہبوں کے جلسوں میں شرکت کرنے والے کی امامت اور مسجد کی چھت پر قیام کا حکم
کی اقتدا میں نماز پڑھتا ہو، بات بات پر جھوٹی قسمیں کھاتا ہو، علمائے اہلسنت کی تنقید کرتا ہو، ایسے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور ایسے امام کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا ایک سنی امام اور ایک عام سنی مسلمان کے لئے بدعقیدہ لوگوں سے ملنے پر ایک ہی حکم صادر ہوتا ہے یازیادہ احتیاط کس پر لازم ہے؟ (۲) مسجد کا وہ حصہ جس پر پنجوقتہ نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے، ٹھیک اس کے بالائی حصہ پر مدرسہ کے طلباء کا قیام وطعام، لیٹنا، بیٹھنا، سونا کیسا ہے؟ اگر طلباء کو اعتکاف کی نیت کر دی جائے تو کیا شریعت کا حکم بدل جاتا ہے؟ کیا رمضان کے معتکف اور ایسے کے لئے ایک ہی حکم ہے یا کوئی فرق ہے؟ المستفتی : ( ڈاکٹر ) سید سلطان احمد ہاشمی ،105/129 سعید آباد، چمن گنج، کانپور (یوپی)
الجواب: (1) دیوبندیوں کے جلسہ میں شرکت، ان سے مصافحہ و معانقہ، ان کے ساتھ خوردونوش حرام حرام حرام بد کام، بدانجام اور دیو بندیوں کو دانستہ امام بنا نا سب سے بڑھ کر حرام بلکہ کفر کہ یہ تعظیم کا غایت درجہ ہے اور دیابنہ حسب حکم علمائے حرمین شریفین و مصر ہند و سندھ ایسے کا فربے دین کہ جوان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کا فر ہے۔ [ حسام الحرمین ] اور کافر کی تعظیم کفر ۔ درمختار میں ہے: تبجيل الكافر كفر (1) جو فی الواقع ان امور کا مرتکب ہو، اسے امام کرنا حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور زیادہ احتیاط عالم کو لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم اور عوام پر بھی بدمذہبوں سے دوری فرض ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مکروہ ہے اور اعتکاف سے بالائی حصہ پر چڑھنے کی اجازت نہ ہو جائے گی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ الجواب صحیح والمجیب مصیب ومثاب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۱/ جمادی الآخر ه ۱۴۰۱ھ (1) الدر المختار، ج ۹، ص ۵۹۲، باب الاستبراء دار الكتب العلمية، بيروت