امام کی وراثتی زمین پر اعتراضات، امامت کی اہلیت اور دیہات میں قیامِ جمعہ کا شرعی حکم
اوقات کے لئے بزرگوں نے دی ہوگی جو امام صاحب کے آباؤ اجداد سے برابر نام چلی آرہی ہے اور اب بھی برابر قابض ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام صاحب کو اب امداد دینے کی کیا ضرورت ہے؟ کیونکہ ان کے پاس زمین ہے اور زمین ہی کے بدلے میں نماز پڑھاتے ہیں۔ اور برابر آئے دن اس بات کا الزام عائد کرتے ہیں کہ امام صاحب نے مسجد کی زمین اپنے نام کروا کر ہضم کر لی جبکہ قانونا امام صاحب نے زمین اپنے نام نہیں کروائی اور برابر بزرگوں سے زمین امام صاحب ہی کے نام چلی آرہی ہے۔ امام صاحب اپنے کام کو برابر انجام دیتے چلے آرہے ہیں لیکن امام صاحب کی جو امداد بزرگوں سے چلی آرہی تھی اس میں کمی کر دی گئی ہے۔ اگر امام صاحب اپنا ذریعہ معاش تلاش نہ کریں تو ان کا گزارا ہونا مشکل ہو جائے۔اس حالت میں بھی امام صاحب اپنا کام برابر انجام دے رہے ہیں اور امداد کی کمی کر دی گئی ہے۔ از روئے شرع مطلع فرمائیے گا کہ اس حالت میں نماز پڑھنے والوں کی نماز امام کے پیچھے ہو جاتی ہے؟ اور امام صاحب اس زمین کے ہضم کرنے کے مستحق ہوئے کہ نہیں؟ اور برابر طعنہ دینے والوں کی نماز امام صاحب کے پیچھے ہو جاتی ہے کہ نہیں ؟ اگر اس حالت میں امام صاحب امامت چھوڑ دیں تو وہ زمین کے مستحق رہیں گے کہ نہیں؟ جو کہ زمین بزرگوں کے نام سے اندراج چلی آرہی ہے۔ اگر کوئی امام بلا امداد کے مسجد کی امامت کرتا ہے اور اس کو کوئی امداد نہیں مل رہی ہے، وہ دیگر دھندے سے اپنا گزر اوقات کر رہا ہے اور پریشان بھی ہے۔ کیا ایسے امام کے پیچھے گاؤں والوں کی نماز ہو جائے گی یا نہیں ؟ جواب صاف صاف تحریر فرمانے کی زحمت گوارہ کریں۔ ماسٹر شبیر احمد صدیقی، خلیل آباد ضلع فرخ آباد (یوپی)
(۱) جمعہ کی صحت کے لئے مصر یا فنائے مصر شرط ہے، مصر وہ جگہ ہے جہاں متعدد گلی کوچے ، دوامی بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ ہوں جس کے تحت دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں حاکم رہتا ہو جو اپنی شوکت وحشمت سے ظالم سے مظلوم کا انصاف لے سکے۔ دیہات میں جمعہ صحیح نہیں ۔ دیہات والوں پر ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھ لینے سے ساقط نہ ہوگا بلکہ ذمہ پر رہے گا۔ مگر جہاں پہلے سے جمعہ قائم ہو وہاں عوام کو نہیں روکا جا تا لیکن دیہات میں جمعہ کی اجازت نہیں جس نے نیا جمعہ قائم کیا اس نے ضرور فتنہ کھڑا کیا، تو بہ کرے ورنہ مسلمان اسے چھوڑ دیں اور نیا جمعہ بند کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے ثبوت شرعی کسی مسلمان کی طرف گناہ کی نسبت حلال نہیں اور دانستہ بہتان بہت سخت حکم رکھتا ہے۔ بکر پر تو بہ لازم ہے ورنہ ہر مسلم واقف حال اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) امام سے بے وجہ شرعی بغض رکھنے والے سخت گناہ گار مستحق نار ہوئے اور جولوگ امام کی امداد میں کمی کرانے کے مرتکب ہوئے اور جنہوں نے اس پر بے ثبوت شرعی زمین غیر کو ہضم کرنے کا الزام لگایا وہ بھی اشد گناہ گار مستحق نار ہیں۔ مگر اس سے ان کی اقتدا میں فرق نہ آئے گا اور یہ کیا لکھا کہ امام صاحب اس زمین کے ہضم کرنے کے مستحق ہوئے؟ زمین غیر کو ہضم کرنا ہرگز کبھی جائز نہیں اس جملہ سے ان لوگوں کی تائید ہوتی ہے جو امام کو الزام دیتے ہیں، اگر واقعہ یہی ہے تو الزام امام پر ہے اور امامت چھوڑ دینے کی صورت میں زمین کا مستحق رہنا نہ بنا اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ زمین امام کو دے دی گئی ہے تو وہ بہر حال اس کا مالک ہے اور اگر عاری دی گئی ہے یا اس کی آمدنی وغلہ بعوض امامت اس کے لئے مقرر کیا ہے تو امامت چھوڑنے سے اس کا مستحق نہ رہے گا اور جو جائز دھندے سے کسب معاش کرتا ہو، لائق امامت ہے جبکہ جامع شرائط امامت ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۹ ؍رجب المرجب ۱۳۹۹ھ