مفقود الخبر شوہر کا نکاح، شراب نوشی کی توبہ اور زکوٰۃ کے نصاب کا بیان
اس کے بعد زید باؤلا ہو کر دس دن تک گم رہا، واپس آنے پر پتہ چلا کہ ہندوانا گاؤں کے پاس رہ کر انہیں کا سا عمل بھی کرتا رہا ، شراب نوشی اس کا عام طریقہ ہو گیا ہے، گھر آکر چند ماہ تک باؤلا بن کر پھرتا رہا اور اب پھر اس کا سراغ نہیں چلتا کہ کہاں اور کس شغل میں ہے۔ اب ہندہ کیا کرے؟ کیا بغیر طلاق حاصل کئے کسی سے اپنا نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ (۵) ہمارے یہاں سونے اور چاندی کے بھاؤ میں بہت کچھ کمی بیشی ہے، زکوۃ کی ادائیگی کے لئے ساڑھے باون تولہ چاندی کا اعتبار کرے یا ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت کا اعتبار کریں؟ دونوں میں اولیٰ کیا ہے؟ اقومی دلائل کے ساتھ قلمبند فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
الجواب: (1) تو بہ صحیحہ کرے اور آئندہ پر ہیز گاری کا عزم کرے، اور لوگ تو بہ صحیحہ کے بعد اس سے اچھا برتاؤ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) تو بہ کرے اور تجدید ایمان بھی اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی ورنہ ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) عمده لباس اور خوشبو میں مضایقہ نہیں بلکہ مباح اور بہ نیت خیر مستحسن وخوب ہے ۔ امام پر الزام نہیں ، جو لوگ بے جامعترض ہیں ، وہی ملزم ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں۔ اور اگر صورت ملبہ ہو تو ہمارا فتو کی بابت مفقود ہمراہ روانہ ہے اس پر عمل کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جس کے پاس سونے کا نصاب ہو وہ سونے کی قیمت کا اعتبار کرے اور جس کے پاس چاندی کا نصاب ہو وہ چاندی کی قیمت لگا کر ز کوۃ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ