دو رکعت والی نماز میں قعدہ بھول کر کھڑا ہونے اور یاد آنے پر بیٹھنے کا شرعی حکم
قعدہ اخیرہ میں نہ بیٹھا بلکہ تیسری رکعت کو کھڑا ہو گیا بھول کر ، فورا ہی پیچھے سے کسی نے آواز دی، بیٹھ گیا یا خود ہی فوراً یاد آنے پر بیٹھ گیا۔ امام نے سجدہ سہو کر کے نماز پوری کر لی۔ (۲) عمرو کہتا ہے کہ نماز ہر گز نہیں ہوئی جب تیسری رکعت کو کھڑا ہو گیا تو چوتھی رکعت اور پڑھنا چاہئے تھی ۔ (۳) زید کہتا ہے کہ امام نے نیت دورکعت پڑھنے کی کی ہے اور دو رکعت والی نماز میں قعدہ فرض تھا اس لئے اگر آواز دینے سے یا خود فوراً یاد آجانے سے بیٹھ گیا تو صحیح بیٹھا اور سجدہ سہو کر کے نماز پوری کی درست ہوگئی اور سجدہ سہو اس لئے ٹھیک کیا کہ فرض کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی تھی ۔ لہذا زید کا کہنا ہے کہ نماز ہوگئی اور عمرو کہتا ہے کہ ہر گز نماز نہ ہوئی۔ لہذا قول زید صیح ہے یا قول عمر وصحیح ہے؟ بحوالہ کتب معتبرہ جواب مرحمت فرما یا جاوے۔ فقط المستفتی عبدالنبی محلہ سینگر ضلع پیلی بھیت (یوپی)
الجواب: زید کا قول صحیح ہے، بلاشبہ نماز ہو گئی عمرہ کا قول محض باطل ہے، امام پر لازم نہ تھا کہ چوتھی ملا تا اگر ملا تا تو بے سود تھا کہ مذہب مفتی بہ پر دوہی ہو میں کذافی الفتاوی الرضویہ۔ مسائل شرعیہ میں بغیر علم کے محض اپنی رائے سے کچھ کہنا سخت بے باکی ہے۔ عمر و پر تو بہ لازم ۔ ھوالھا دی وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ