بے پردہ رہنے والی عورت کے شوہر کی امامت اور اذان کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین مسئلہ ذیل کے متعلق کہ: زید پانچوں وقت کی نماز پڑھتا ہے، وضع قطع موافق شریعت ہے، پیشہ یا ذات کے اعتبار سے دھوبی ہے، اس کی بیوی اعلانیہ غیر سے کلام کرتی ہے اور بے پردہ گھوما کرتی ہے اور مسجد میں دوسرا امام مقرر ہے۔ ایسی حالت میں اس کا اذان دینا، امام کی موجودگی میں کیسا ہے؟ اور غیر موجودگی امام میں نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ اور امام اذان دینے سے منع کرے کہ اذان میں کہوں گا اور دوسرا آدمی یا مذکور شخص جبرا اذان کہہ دے اور یہ کہے کہ میں اذان ہی کی خاطر جلدی آتا ہوں اور امام پر اس کا قول شاق گزرے تو کیسا ہے؟ اور بغض رکھنے والے امام کے ساتھ ، امام کی اقتدا کرے تو کیا حکم ہے؟ چونکہ بعد نماز فجر لوگ امام سے مصافحہ کرتے ہیں، اور وہ نہیں کرتا ہے اور دعا کے لئے کیا حکم ہے؟ کہ بعد سلام بلا وجہ شرعی از خود دعا مانگ کر چلا جاتا ہے جس سے امام کو تکلیف دلی ہوتی ہے اور لوگوں سے دعا کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے کہ دعا امام کے ساتھ مانگنا کچھ ضروری نہیں۔ ایسا کرنا کیسا ہے؟ العارض: بندہ رفعت حسین محله رو بیلی ٹولہ ، عنایت منبج، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: شخص مذکور اگر اپنی بیوی کے ان افعال بد سے راضی ہے اور اسے ان سے اپنے مقدور بھر باز نہیں رکھتا تو فاسق ہے اور فاسق کا اذان دینا مکروہ ہے اور اگر وہ اذان عالم کی غیر موجودگی میں دے گا تو اعادہ ضروری ہوگا اور اس کا امام بنا اور لوگوں کا اس کی اقتدا کرنا نا جائز ہے جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھیں ان کا پھیر نا واجب ہے اور بغض کسی سے بے وجہ شرعی حلال نہیں مگر اس سے نماز میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس پران امور سے تو بہ فرض ہے اور اگر وہ اپنی بیوی کوحتی المقدور منع کرتا ہے مگر وہ باز نہیں آتی تو وہ ملزم نہیں اور اس کی اذان و امامت میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ کسی اور وجہ سے فاسق معلن نہ ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله