تیجہ اور فاتحہ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے امام کو وہابی کہنے والوں کا حکم
تیجہ، فاتحہ وغیرہ میں شامل نہ ہونے کی بنا پر وہابی کہنے والوں کا سخت حکم ! علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ : میں اس محلہ کی مسجد کا امام ہوں ، اس محلہ میں تیجہ ہورہاتھا، میں نتیجہ میں شامل نہ ہو سکا کسی نے مجھے سے کہا کہ مولانا ایک پارہ قرآن پڑھ دیجئے ، تو میں اس وقت کسی کام میں تھا تو میں نے ان سے کہا کہ میرے پاس قرآن پڑھا ہوا ہے، دے دوں گا، لوگ چپ ہو گئے، اب کلمہ خوانی ہو رہی تھی تو میں حجرہ میں بیٹھا تھا، مجھے کہیں جانا تھا پھر میں کسی کے یہاں سائیکل لینے گیا، وہاں سے لوٹ کر جب تک میں آیا فاتحہ ان لوگوں نے پڑھ لی۔ ان سب معاملہ میں ساتھ نہیں رہنے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے مجھے وہابی کہہ دیا، پھر مجھے پڑھا ہوا چنا دینے لگے تو میں نے کہا کہ میں نہیں لوں گا، اس میں بھی لوگوں نے اعتراض کیا کہ کیوں نہیں لوگے؟ تو میں نے کہا کہ یہ میرے لئے نہیں بلکہ غریب وغربا کے لئے ہے، ان سب باتوں میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے وہابی کہا۔ ان لوگوں پر ان باتوں سے کیا ہونا چاہئے؟ اور ہمارے لئے وہ چنا کھانا کیسا ہے؟ قرآن وحدیث سے اس کا خلاصہ جواب دیں۔ نیازمند : محمد رفیق ، ساکن محله مکمل ، لائن پور
الجواب: آپ کا عذر معقول ہے جس کو قبول کرنا تھا، اس بنا پر وہابی کہنا درست نہیں جنہوں نے محض اس بنا پر وہابی کہا، سخت مجرم وملزم ہیں، تو بہ کریں اور اگر اسلام سے خارج سمجھ کر یہ کلمہ کہا تو تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی لازم ہے ( بیوی والوں کو ) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی