ناجائز تعلقات رکھنے والوں اور ان سے میل جول رکھنے والے امام کا شرعی حکم
عورت اور ان مردوں کو سمجھایا کہ تم لوگ ایک دوسرے سے جدا ہو جاؤ اور عورت سے کہا کہ طلاق حاصل کر کے اور عدت گزار کے پھر نکاح کر لو۔ اس پر وہ رضامند نہیں ہوئی ۔ گاؤں کے کچھ لوگوں نے ان سے میل جول ترک کر دیا اور گفتگو سب بند کر دی لیکن گروہ میں کچھ وہ ہیں جو ان سے میل جول اور لین دین، بات چیت ترک نہیں کرتے ہیں، گروہ میں ایک امام صاحب ہیں جو کہ اس گروہ کو نماز پڑھاتے ہیں، پیش امام صاحب کو بھی سب حقیقت معلوم ہے لیکن وہ طمع نفسانی کی وجہ سے مجبور ہیں، اسی گروہ میں سے ایک شخص کے یہاں نیاز گیارہویں ہوئی تو ان صاحب نے جائز کام کرنے والوں کو دعوت دی اور سب مسلمانوں کو جو کہ ان کے یہاں رہنے والے ہیں۔ لہذا ان جائز کام کرنے والوں اور ناجائز کام کرنے والوں اور ان کو دعوت دینے والوں اور پیش امام صاحب کے بارے میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ جواب سے بہت جلد آگاہ کریں۔ المستفتی محمد ظہور خاں ، بیورو، ڈاکخانه شای مطلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: وہ دونوں مرد و عورت سخت حرام کار گناہ گار حق اللہ وحق العباد میں گرفتار ہیں، ان پر تو بہ لازم اور اپنے فعل بد سے باز آنا فرض ہے، امام مذکور برائی سے روکے اور جو باز نہ آئے اس سے خودڑ کے، طمع نفسانی کی بنا پر بدکار سے ملنا حرام حرام حرام بد کام بدانجام ہے اور ایسا امام جب تک تو بہ نہ کرے اور اس کا صلاح حال ایک مدت تک ظاہر نہ ہو جائے ، امامت کے لائق نہیں، اسے امام بنانا گناہ ہے، اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے، کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ غنیہ میں ہے: لوقدموا فاسقاياثمون (1) در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) غنية المستملى شرح منية المصلی، ص ۵۱۳ ، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت عالمگیری میں ہے: ”الفاسق اذا تاب لا تقبل شهادته مالم يمض عليه زمان يظهر عليه اثر التوبة ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی