نون کو "لام" پڑھنے والے کی امامت جائز نہیں، نیز اس کی اپنی نماز کا حکم ! عیدین کے لئے عید گاہ کو آباد رکھنا لازم اور اسے چھوڑ دینا ناجائز و گناہ ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : (1) ایک حافظ صاحب ہیں، کہ وہ قرآن شریف پڑھنے میں نون کو لام پڑھتے ہیں کسی مرض کی وجہ سے۔ کیا ان کو امامت کرنا جائز ہے؟ جبکہ ان سے اچھا قرآن کریم پڑھنے والا شخص موجود ہے اور حقیقتاً حافظ کسے کہتے ہیں؟ اور اسے کیا معلوم ہونا چاہئے ؟ (۲) عید گاہ شہید ہوتی جارہی ہے اس حال میں یہاں کے مسلمانوں نے ایک مسجد تعمیر کر لی ہے،اس میں پنجوقتہ نماز اور جمعہ وعیدین ادا کی جاتی ہے اور روز بروز عیدگاہ شہید ہوتی جارہی ہے اور اب جبکہ مسجد جامع میں عیدین ہونے لگی تو عید گاہ کی طرف سے توجہ مسلمانوں کی ہٹ گئی ہے۔ ایسی نمازوں کا جو کہ جامع مسجد میں ادا کی جائیں ، ان کا اور ایسے مسلمانوں کا کیا حکم ہے؟
الجواب: (1) ایسے شخص کی امامت ناجائز ہے، اس پر لازم ہے کہ قرآن صحیح پڑھے اور تصیح حروف میں پوری کوشش کرے اور کسی حرف کی ادائیگی میں باوجود ادنی امید کے کوشش سے نہ تھکے ورنہ اس کی اپنی بھی نہ ہوگی اور اس کے پیچھے کسی کی نہ ہوگی اور یہ صورت کوشش اس کے پیچھے اس جیسے لوگوں کی ہو جائے گی جبکہ جماعت میں کوئی صحیح خواں نہ ہو اور اگر صحیح خواں ہو تو اس کی اقتداء لازم ورنہ سب کی نماز فاسد ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) عیدین کے لئے عید گاہ کو آباد رکھنا لا زم ہے اور اسے چھوڑ دینانا جائز وگناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳ رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ