قرآت میں بے محل سانس ٹوٹ جانا نماز میں مخل نہیں ! جامع شرائط کی امامت پر اعتراض نا درست اور اس کی اقتدا چھوڑ نا گناہ ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (۱) زید حافظ ہے اور مسجد میں امامت کرتا ہے ، حالت نماز میں سانس تو ڑ دیتا ہے، جس جگہ نہیں ٹھہرنا چاہئے وہاں ٹھہرتا ہے ، بکر نے ۳ مرتبہ کہا : حالت نماز میں قرآت ٹھیک سے کیا کریں لیکن زید نے نہیں مانا۔ اب اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ شریعت کے تحت جواب دیں۔ (۲) عمرو جس امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسی امام کی شکایت بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تم پہلے امام کی صورت بنالو۔ تو ایسے شخص کی نماز اس امام کے پیچھے ہوگی یا نہیں؟ عمر و فاسق بھی ہے۔ شریعت کے تحت جواب دیں۔ المستفتی: حمران عالم مسجد قاضی نوالہ، پرانی شهر، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: (1) زید اگر به عارض انقطاع نفس ایسا کرتا ہے تو اس پر الزام نہیں اور اگر عمدا غیر محل وقف میں سانس توڑ دیتا ہے توضرور ملزم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) امام اگر لائق امامت ہے تو سب کی نماز اس کے پیچھے بلا کراہت درست ہے اور اس پر اعتراض نا درست اور اس کی اقتدا چھوڑ نا گناہ ہے اور اگر وہ امامت کے لائق نہیں ہے تو بعض صورتوں میں اقتدا ہی باطل نماز غیر صحیح اور بعض میں مکروہ تحریمی ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم