مقتدیوں کی رضا مندی سے اذان و نماز کے وقت میں تقدیم و تاخیر اور غلط مسئلہ بتانے پر توبہ کا حکم
۲۹ / رجب المرجب ۱۳۹۷ھ مقتدیوں کی رضا مندی سے اذان و نماز کے وقت میں تقدیم و تاخیر ہے! یہ کہنا آج کل کے مولویوں کے گھر کا قرآن وحدیث ہے کیسا؟ غلط مسئلہ بتانے والا تو بہ کرے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: پرانا شہر جھنڈا والی مسجد میں جمعہ کی اذان ایک بجے اور خطبہ ڈیڑھ بجے ہوتا ہے لیکن الوداع کی وجہ سے امام صاحب نے اکثر مقتدیوں کی رضامندی سے دس منٹ پہلے اذان پڑھ دی تا کہ فطرہ وغیرہ کے احکام بتانے کا موقع مل جائے، امام صاحب ابھی تقریر کے لئے تیار ہی ہوئے تھے کہ زید نے کہا بہار شریعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ایسا کرنا غلط ہے تو دوسری طرف بکر نے کہا کہ آج کل کے مولوی کے گھروں کا قرآن و حدیث ہے۔ اب دریافت یہ ہے کہ زید کا اس طرح بہار شریعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا درست ہے یا غلط؟ اور بکر کا ایسا جملہ استعمال کرنے پر حکم شرعی کیا ہے؟ خلاصہ جواب تحریر فرما کر موقع تشکر عنایت فرمائیں۔ المستطنی: سعید اختر مسجد جھنڈ اوالی، پرانا شہر، بریلی شریف
الجواب: مقتدیوں کی رضامندی سے تقدیم و تاخیر میں حرج نہیں۔ بہار شریعت کا حوالہ غلط ہے اور اس پر جس نے وہ جملہ کہا کہ آج کل کے مولوی ۔ الخ “ اس پر تو بہ لازم ہے اور جس نے غلط مسئلہ بتایا وہ بھی تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی