بے نمازی کو کافر کہنے والے کی امامت اور جاہل امام کے پیچھے نماز کا حکم
ہی بیان کیا کہ نماز کا نہ پڑھنے والا پیٹک کا فر ہے، میں کتاب دکھا سکتا ہوں، زید کی اس تقریر کے سترہ گواہ ہیں، ان میں تین گواہ بیرونی تھے انہوں نے ایک عالم کے سامنے زید کی تقریر کے الفاظ ”نماز کا تارک کا فر ہے تصدیق زبانی کر دی، ان تین گواہوں میں دو متشرع اور ایک گواہ میں کلام ہے، بعد میں ان تینوں گواہوں نے زید کو ایک تحریر دی جس میں زید کی تائید کی گئی کہ زید نے حنفی مذہب کی وضاحت کر دی تھی ، مطلقاً بے نمازی کو کا فرنہیں کہا تھا۔ اب ان تین بیرونی کا بیان ہے اور ان تینوں گواہوں کے عالم کے سامنے بیان دینے کے نو گواہ ہیں جس میں ایک متشرع اور ایک عالم اور سات غیر متشرع گواہ ۔ تو اس صورت میں ان بیرونی تین گواہوں کو مانا جائے گا۔ دراں حالیکہ اس کے علاوہ مقامی چودہ گواہ جس میں دو ایک متشرع اور بقیہ غیر متشرع ہیں تو اس صورت میں زید پر تو بہ لازم ہے یا نہیں؟ اور زید کی اقتدا جمعہ ودیگر نمازوں میں صحیح ہے یا نہیں؟ (۳) جن گواہوں نے خود سنا ہے اس میں سے مؤذن بھی ہے وہ اقامت نہیں پڑھتا، عام نمازوں میں زید کی اقتدا ایک دو کرتے ہیں۔ بعض وقت جماعت بھی نہیں ہوتی ۔ جمعہ میں دیہاتوں کے کچھ لوگ آجاتے ہیں تاہم جماعت میں تعداد بہت کم ہو گئی تو اس صورت میں مؤذن کو مجبور کیا جاوے کہ اقامت کہے اور مقتدی جنہوں نے خود سنا ہے اور اقتدا نہیں کرتے ، انہیں مجبور کیا جاوے کہ زید کی اقتداء کریں یا نہیں؟ بینوا توجروا المستفتی : عنایت رضا احمد خاں غفرلہ
الجواب: (1) امام صیح الطہارۃ صحیح القرآة ، لائق امامت ہونا چاہئے اور یہ مسائل ضرور یہ کے علم پر عادةً موقوف ہے بے علم سے ایسی غلطی بہت متوقع جس سے نماز فاسد ہو جائے اور جبکہ وہ اذان وغیرہ میں اغلاط کرتا ہے تو اور بھی غلطی کا احتمال قوی ہے۔ لہذا کسی صحیح خواں ، جامع شرائط کو امام بنایا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید نے کس بنا پر تارک نماز کو کافر کہا؟ تفصیل لکھ کر معلوم کریں۔ یعنی پوری گفتگو نقل کی جائے، اگر اس نے کسی حدیث شریف کو پڑھ کر ترجمہ کیا یا کسی امام کا قول نقل کر کے ترجمہ کیا تو وہ صادق ہے، بعض احادیث میں تہدید کے لئے وارد ہوا ہے جس کی تفصیل آنے پر پیش کی جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جب تک اس کا حکم شرعی معلوم نہیں ہو جاتا تب تک اسے موقوف رکھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ