ایسے امام کی امامت کا حکم جس کی زبان کچی ہو اور حروف صحیح ادا نہ کر سکتا ہو
امام کی زبان کچی ہے اور حروف صحیح ادا کرنے کی قوت نہیں رکھتا ہے جیسے ڈ ، ج اور س، جس میں کوئی فرق نہیں کرتا تو اس کی امامت درست ہے یا نہیں؟ (الف) کچھ مقتدی بھی حروف کی ادائیگی کی قوت نہیں رکھتے ہیں ، ان کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ (ب) کچھ مقتدی ادائیگی کی پوری قوت رکھتے ہیں یعنی از روئے قرآت درست پڑھتے ہیں، ان کی نماز ہو جائے گی اس امام کے پیچھے، اس بنا پر کہ امام کی زبان بیچی ہے اور وہ ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ادا کرنے سے معذور ہے۔ اگر یہ امام نماز پڑھاتا ہوتو ؟ الف والے مقتدی اور ب والے مقتدی کیا رویہ اختیار کریں؟ جماعت سے پڑھنے کے بعد پھر سے اپنی نماز دوبارہ پڑھ لیں؟ یا کوئی دوسرا رویہ اختیار کریں؟
الجواب: سائل: نمازی مسجد دادا میاں رحمتہ اللہ علیہ محلہ گھیر شیخ مٹھو، ذخیره، بریلی شریف (اتر پردیش) ) صورت مسئولہ میں وہ شخص جب صحیح القرآت نہیں ہے تو ہرگز لائق امامت نہیں، اس کے سوا دوسرے شخص صحیح القرآت صحیح المعلبارت صحیح العقید ہ تلفی کو امام بنا یا جائے۔ (۲) ان مقتدیوں کی نماز ان کے پیچھے ہو جائے گی مگر اسے امام بنانے سے گناہ گار ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ان کی نماز اس کے پیچھے نہ ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۶ / جمادی الاخری ۱۳۹۸ھ