دیو بندیوں سے میل جول حرام ہے! دیو بندیوں سے میل جول رکھنے والا بعد تو بہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک مولوی محبوب عالم نام کے ہیں جو اپنے کو سنی کہلاتے ہیں اور دیوبندیوں کے ساتھ میل جول، اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا روا ر کھتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ میں نوکری کرتا ہوں، سب سے ملنا اور کھانا پڑے گا۔ شریعت مانع نہیں ہے جبکہ وہ امامت کرتے ہیں ۔ لہذا ایسے کو امام بنانا ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیا ہے ؟ مفصل و دلیل جواب عنایت فرما ہیں یہ المستفتی : غلام رسول فتح خلیفہ رفاعی قادری
الجواب: دیو بندیوں سے میل جول شرعاً حرام ہے۔ حدیث میں صاف فرمایا: ،، لاتجالسوهم ) ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ یہ ارشاد اُن بدمذہبوں کی بابت ہے جن کی بدمذہبی حد کفر تک نہ پہونچی ہو، تو دیو بندیوں کی بدمذہبی تو سرحد کفر تک پہونچ چکی ہے، ان کے لئے یہ حکم کیونکر نہ ہوگا؟ بے شک ضرور ہے اور یہ کہنا کہ شریعت مانع نہیں ہے، جھوٹ ہے، تو بہ فرض ہے۔ جب تک تو بہ نہ کریں اور بعد تو بہ جب تک ان کا صلاح حال ظاہر نہ ہو، انہیں امام بنانا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحم بستوی غفرلہ القوی ۱۴ رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ (1) مرقاة المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، باب مناقب الصحابة، ج ۱۱، ص ۱۵۳ ، دار الكتب العلمية بيروت