انگریزی بال رکھنا فساق کی وضع ہے لیکن امامت میں کراہت تحریمی نہیں ! نوٹوں کا ہار ڈالنا شرعاً منع ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ: (1) بعض مساجد کے امام حجامت بنوانے میں کل سر کے بال بجائے ایک طرح کے بنوانے کے دو طرح کے بنواتے ہیں یعنی کانوں کے ارد گرد بال زیادہ چھوٹے کرواتے ہیں اور سر کی چندیا کے بال بڑے رہتے ہیں جس سے مشابہت انگریزی بالوں سے ہو جاتی ہے، اس طرح بال بنوانا درست ہے یا نہیں؟ اور اس امام کی امامت میں نماز ہوگی یا نہیں؟ (۲) دوسرے آج کل یہ رواج ہو گیا ہے کہ دولہا کے گلے میں نوٹوں کا ہار ڈالتے ہیں جس میں ذی روح کی تصویریں ہوتی ہیں، یہ ہار ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟ اور دولہا کے گلے میں یہ ہار پڑا ہو اور نکاح پڑھا دیا جائے تو نکاح ہوگا یا نہیں؟ المستفتی: فیاض احمد محله بر هم پور، بریلی
الجواب: (1) انگریزی بال رکھنا فساق کی وضع ہے، امام کو اسلامی وضع چاہئے ، اس سے احتر از چاہئے ، امامت میں کراہت تحریمی نہیں جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (۲) نوٹوں کا ہار ڈالنا شرعاً منع ہے، کیونکہ اس میں جاندار کی تصویر کی تعظیم ہوتی ہے، نکاح ہو جائیگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم یکم رجب المرجب ۱۳۹۷ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی