امام مقرر ہوتے ہوئے دوسرے کو امام بنانا اور غیر عربی میں خطبہ پڑھنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل ذیل میں کہ: (۱) زید مسجد کا مقرر شدہ امام ہے، بکر اگر زید کی موجودگی میں اس سے اجازت طلب کئے بغیر نماز پڑھا دے تو کیا عند الشرع بکر کی امامت صحیح ہے؟ اور کیا مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ بینواتوجروا (۲) جمعہ وعیدین میں اگر امام عربی کے بجائے اُردو میں خطبہ پڑھے تو شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ اُردو خطبہ پڑھنے والے خطیب کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا المستفتی: قاری محمد مزمل حقی محلہ، ڈاکخانہ قطب ضلع مالدہ (بنگال)
الجواب: (1) جبکہ امام ماذون و مقرر ہے تو اس جگہ کی امامت کا حق اسی کو ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی کو اگر چہ اس سے زیادہ فاضل ہو، بے اجازت امام بننا مکروہ تنزیہی ہے۔ حدیث میں ہے: لا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه (1) مگر نماز ہو جائے گی جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) خطبه خالص عربی میں سنت متوارثہ ہے، اس میں کوئی اور زبان ملانا خلاف سنت ہے اور خالص دوسری زبان میں پڑھنا تو اور زیادہ بُرا ہے ، خطیب مذکور کو بتایا جائے ، جب وہ نہ مانے تو امامت سے علیحدہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ