قل ھواللہ احد کے اللہ الصمد سے فصل اور وصل کی صورتیں اور تلفظ کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید جو حافظ قرآن اور با شرع ہے، کہتا ہے کہ قل ھو اللہ احد، اللہ الصمد پڑھنا غلط ہے بلکہ حرام اور کفر ہے، بکر نے کہا کہ پھر کیا پڑھنا چاہئے؟ تو کہا کہ " قل ھواللہ احدن اللہ الصمد پڑھنا ضروری ہے۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ "قل ھو اللہ احد اللہ الصمد پڑھنا واقعی کفر ہے؟ خلاصہ کلام سے مطلع فرمائیں۔ کرم ہوگا المستفتی محمد ظفر الدین، محله سیف الله کی سہسوان
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: دونوں طرح پڑھنا جائز ہے، وقف والی صورت کو غلط بتانا غلط وحرام ہے اور کفر کہنا بہت سخت بدانجام ہے ، زید پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۸ رصفر المظفر ۱۳۹۹ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۳۰–۳۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نسبندی کرانے والا بعد تو یہ وصلاح حال لائق امامت ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
بہتان تراشی گناہ کبیرہ ہے ! بہتان تراش امامت کے لائق نہیں!
باب: کتاب الصلوٰۃ
تعصب کی بنا پر اقتدا نہ کرنا نا جائز و گناہ ہے ! بے وجہ شرعی کسی کو برا کہنا گناہ گالی دینا حرام ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام مقرر ہوتے ہوئے دوسرے کو امام بنانا اور غیر عربی میں خطبہ پڑھنے کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
نامحرم لڑکی سے میل جول رکھنے والے امام کی امامت اور بچیوں سے ہاتھ پیر دبوانے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ