نامحرم لڑکی سے میل جول رکھنے والے امام کی امامت اور بچیوں سے ہاتھ پیر دبوانے کا حکم
(۱) ہمارے یہاں کے امام صاحب شادی شدہ تھے، کچھ نا اتفاقی کی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے رکھی ہے، ان شرائط پر کہ میرے سامان کو واپس کر دیا تو تم پر دوطلاق ، یہ طلاق ان کی بیوی نے ہی مانگی تھی۔ الغرض امام صاحب کو اپنی بیوی سے جدا ہوئے سات آٹھ سال گزر گئے ہیں، دوسری شادی اب تک نہیں کی ہے اور یہ کوئی بوڑھے بھی نہیں ہیں، جو ان ہی ہیں۔ (۲) دوسری بات یہ ہے کہ امام صاحب ایک جوان لڑکی کو رکھ کر کھانا پکوانے سے لے کر گھر کے سارے کام اس لڑکی کے ہاتھ سے کرواتے ہیں، اور کبھی کبھی خود چولہا کے پاس جا کرلڑکی کے ساتھ ایک جگہ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ لڑکی کے ساتھ ہنسی مذاق ٹھٹھا بھی کرتے ہیں، یہلڑ کی نہ تو مذکور امام کی کوئی رشتے میں ہے نہ تو کوئی سماج پڑوس کے اعتبار سے ہوگی ۔ اب اس مسئلہ میں امام صاحب کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ دلیل کے ساتھ قلمبند کریں۔ (نوٹ) مسجد کا مکتب یا کوئی بھی مکتب ہوں، ان میں اگر چھوٹی بچیوں سے لے کر بڑی بچیاں لڑکیاں ) پڑھنے کے لئے معلم کے پاس اگر آئیں تو کیا معلم کے لئے پیر ، ہاتھ ،سر ، اُن لڑکیوں سے د بوانا جائز ہے یا نہیں ؟ معلم اگر مرد ہو۔
الجواب: (۱) اگر یہ واقعہ ہے کہ امام مذکور اس نامحرم لڑکی کے ساتھ رہتا، اس سے ہنسی ٹھٹھہ کرتا ہے تو سخت فاسق معلن ہے جبکہ اس کا یہ جرم شرعاً ثابت و مشتہر ہو، اُسے امام بنانا گناہ اور اس کی افتد امکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ۹ سال خواہ اس سے زیادہ عمر کی بچیوں سے ہاتھ پیر دبوانا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ شعبان المعظم ٢ ۱۴۰۲ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی