امام کا انجمن کے صدر کی حیثیت سے مالی حسابات نہ دینا اور بدکردار شخص کو سکریٹری بنانا
(۱) یہ کہ پیش امام صاحب ایک انجمن کے صدر ہیں، اس انجمن کی بقا و سلامتی عوامی خیرات وعطیات و چندہ وزکوٰۃ سے ہے، جن مدوں سے چندہ جمع کیا جاتا ہے، ان میں زکوۃ فطرہ، خیرات وغیرہ وغیرہ نیز اجمن کے زیر اہتمام چلنے والے ادارے، انتظام مسجد اور دینی تعلیمی مدرسہ انجمن کی ماہانہ آمدنی و خرچ کی حاجات تقریباً پانچ سال سے، باوجود عوام اور انجمن کو مالی امداد دینے والوں کے مطالبے کے آج تک صدر انجمن نے بتائے نہیں جس کی وجہ سے عامتہ المسلمین صدر انجمن کی اس جابرانہ روش سے ناراض ہیں۔ لہذا اس مسئلہ میں حکم شرع کیا ہے؟ مطلع فرمایا جائے ۔ (۲) یہ کہ آج سے پانچ سال پہلے امام صاحب مسجد کے صرف پیش امام تھے اور انجمن کے صدر نہیں تھے تو اس وقت سے مسجد کے قریب میں ایک شخص رہتا ہے اور وہ شراب کا غلط دھندہ کرتا ہے، اس زمانہ میں پیش امام صاحب کو اس کے غیر شرعی دھندہ کا علم ہوا تو اس کے گھر فاتحہ خوانی میں نہیں گئے اور اعتراض کئے کہ وہ شخص غیر شرعی دھندہ کرتا ہے، اس کے ہاں جانا اور فاتحہ پڑھنا اور کھانا وغیرہ کھانا غلط ہے۔ اور چنددنوں کے بعد جب امام صاحب انجمن کی صدارت پر متمکن ہوئے تو اس شراب پینے والے کو انجمن کا جنرل سکریٹری مقرر کئے اور اس کے ساتھ مل جل کر ہمنوالہ اور ہم پیالہ بن کر معہ اپنے احباب کے اسی غلط دھندے والے کے گھر دعوتیں کھانے لگے۔ لہذا اس مسئلہ میں شرع شریف کے احکام کیا ہیں؟ جواب سے مطلع فرمایا جائے۔ (۳) یہ کہ پانچ سال قبل خود امام صاحب انجمن کے صدر بن کر ایک شخص لیاقت خاں جو سابق میں انجمن کا سرگرم جنرل سکریٹری تھا، جس نے مسجد کی توسیعی کاروائیوں میں بے لوث محنت و مشقت کر کے مسجد و انجمن کو مالی دشواری اور باہر کے قرض سے چھٹکارا دلا کر اپنے ساڑھے تین سالہ دور کارگزاری میں مسجد کو خود کفیل اور مرفع حال بنا کر مسجد و انجمن کے نام بینک میں رقم بھی جمع کرایا۔ ایسے مخلص خادم کو انجمن سے ہٹا کر امام صاحب خود اپنے ہاتھ میں صدر کی حیثیت سے تمام رقمی معاملات کے لئے اور دیگر باہر کے معاملات جیسے سیسی تحریکوںمیںحصہ لیا اور پیرو کا کی حیثیت سے میونسپلٹی میں پیروی کرنا۔ لمستفتی: لیاقت خاں روم نمبر 1/5-218-B دھراوی کر اس روڈ ، دار واٹر ممبئی۔۱۷
الجواب: (۱) امام مذکور پر حساب دینا لازم ہے اور بے ثبوت شرعی کسی کو متہم کرنا حرام ہے، بد کام بدانجام ہے، امام پر اس سے تو بہ لازم ہے اور حساب میں ٹال مٹول سے بازرہ کر حساب دیں ورنہ لائق امامت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) امام پر لازم ہے کہ اس شخص سے حسب سابق پر ہیز کرے، ورنہ اشد گناہ گارمستوجب نار رہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) کسی کو اس کے منصب سے بے وجہ شرعی ہٹا ناظلم ہے، امام پر اس سے بھی تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم