گانے کی طرز پر قرآن پڑھنے، مشرکین کے میلے دیکھنے اور لوگوں کے سامنے ستر کھولنے والے کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اہل سنت و الجماعت اس امر میں شرع مطہرہ کی رو سے کہ: (۱) زید امامت کرتا ہے، کلام پاک اس قدر بنا کر پڑھتا ہے کہ جیسے گانا ، اور اس آواز کے بنانے میں کھڑازبر، زیر، تشدید اور الف وغیرہ بہت سی چیزیں معدوم ہو جاتی ہیں۔ کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟ (۲) زید امامت کرتا ہے اور میلہ وغیرہ جیسے رام لیلا مشرکین کا مذہبی میلہ ہے، ان کو بڑے شوق سے دیکھتا ہے، کھیل اور تفریح وغیرہ میں مشغول رہتا ہے اور تعزیہ کے موقع پر لغویات میں دلچسپی رکھتا ہے یہاں تک کہ میلوں وغیرہ میں تو نماز عصر مغرب ختم ہو جاتی ہے، دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے اس کی وجہ سے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کر دیا ہے ، لوگ اس لئے اس سے کچھ نہیں کہتے کہ اس کے ساتھ میں جولوگ ہیں، وہ تیز وتند جھگڑالوقسم کے ہیں، فتنہ کھڑا ہونے کی وجہ سے خاموش ہیں۔ کیا ایسا شخص نماز پڑھانے کا اہل ہے؟ (۳) زید امامت کرتا ہے، ساتھ ساتھ پہلوانی بھی کرتا ہے بلکہ اکھاڑے میں جانگھیہ باندھ کر لوگوں کو جس میں ہندو مسلم ہیں، ان کو سکھاتا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ حجرے میں بھی جانگھیہ باندھ کر زور کرتا ہے اور کثرت کراتا ہے، دیکھا گیا ہے کہ اکھاڑہ سے واپسی میں وہ لڑ کے مسجد میں نہاتے ہیں اور مسجد کی بے حرمتی کرتے ہیں اور پہلوانوں کے ساتھ رہ کر لہو و لعب میں مشغول رہتا ہے۔ بازاروں گلیوں میں کھا تا پھرتا ہے، لوگوں نے ان سے منع کیا تو جو لوگ مقامی اس کے ساتھ کشتی وغیرہ سیکھتے ہیں، فساد پھیلاتے ہیں اور امام صاحب سے کہتے ہیں کہ حافظ صاحب تم خوب سکھاؤ، تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ
نماز میں قرآن شریف گانے کی طرز میں اس طرح پڑھنا کہ زبر زیر الف وغیرہ میں تبدیلی لازم آئے ، اس سے فساد نماز کا اندیشہ ہے، ایسا شخص لائق امامت نہیں ! فساد میلہ دیکھنے والا، لہو و لعب کرنے والا اور لوگوں کے سامنے ستر کھولنے والا لائق امامت نہیں ! الجواب: پہلا شخص امامت کے لائق نہیں ہے، اس سے فساد نماز کا اندیشہ ہے، دوسرے اور تیسرے کے پیچھے بھی نماز ادا کرنا ممنوع و مکروہ تحریمی ہے اور انہیں امام بنانا گناہ کہ سخت فاسق ہیں اور نہایت فاجر، مشرکین کے میلوں میں جانا ، نمازیں قضا کرنا، لہو و لعب میں منہمک رہنا، جانگھیہ پہن کر، گھٹنے، رانیں کھول کر کشتی وہ بھی مسجد میں نہایت بُرے کام بدانجام ہیں، ان سب پر تو بہ لازم ہے اور ایسوں کو امام ہرگز نہ بنایا جاوے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۴ شعبان المعظم ۱۳۹۷ھ