غلط قراءت کرنے والے امام کی امامت اور اسے حضرت بلال پر قیاس کرنے کا حکم
سوال
صاحب نماز میں اس قدر قرآن شریف صحیح نہیں پڑھ پاتے ہیں کہ جس سے نماز درست ہو، پھر ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ از روئے شرع اقتدا کرنے والوں پر کیا حکم ہوگا ؟ اس امام کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر قیاس کرنا کیسا ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔ عین کرم ہوگا۔ المستفتی: حافظ سراج احمد ، بریلی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
في الواقع جب کہ وہ شخص به قدر ما يجوز به الصلوة تجوید نہیں جانتا ہے، نہ ہی مقدار بھر تصحیح حروف پر قادر ہے تو اس کے پیچھے نماز باطل محض ہے، پچھلی نمازوں کا اعادہ ضروری ہے، اسے لازم ہے کہ حتی الوسع تصحیح مخارج کی کوشش کرتا رہے، ورنہ اشد گناہ گار مستحق نار ہے، اسے امام نہ رکھا جائے اور حضرت بلال پر قیاس جس روایت کی بنا پر کیا وہ بے اصل ہے، صرح بہ السیوطی فی الدر المنشور ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۱ / شعبان المعظم ۱۳۹۷ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۱۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
غلط قرآت کرنے والے اور مسائل نماز سے ناواقف شخص کی امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بے وجہ شرعی جامع شرائط امام کو معزول کرنے کی کوشش امام کی ایذارسانی ہے
باب: کتاب الصلوٰۃ
غیر مقلدین کی گمراہی اور ان کی اقتدا کرنے والے امام کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
غیر صحیح خواں کی امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام کا کسی کو منافق کہنا اور دعائے ماثورہ کو حرام بتانے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ