غیر مقلدین کی گمراہی اور ان کی اقتدا کرنے والے امام کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (۱) زید جو کہ سنی امام ہے اگر دیدہ و دانستہ کسی غیر مقلد امام کی اقتدا میں غیر مقلد کی میت کی نماز جنازہ پڑھے تو کیا ایسے سنی امام کی اقتدا میں صحیح مسلک اہل سنت کا پیرونماز پنجگانہ ادا کرسکتا ہے؟ اور اس طرح نماز پنجگانہ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ اگر نماز درست نہیں ہوگی تو بکر جو صحیح مسلک اہل سنت کا مانے والا ہے، کیا طریقہ اختیار کرے؟ (۲) جو سنی امام صاحبان فریضہ حج کی خاطر سعودی عرب جا کر مکہ معظمہ میں نماز پنجگانہ وہابی غیر مقلد کی اقتدا میں پڑھتے ہیں، ایسے اماموں کو سنی مسجدوں میں امام رکھنا یا ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟ (۳) زید سنی امام جس نے دیدہ و دانستہ غیر مقلد میت کی نماز جنازہ غیر مقلد کے پیچھے ادا کی ہو، اب اسی سنی امام مذکور کے پیچھے اگر کچھ سنی امام صاحبان نماز عید پڑھیں تو کیا ایسے اماموں کے پیچھے بھی نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ المستلفنی : عامل حسین انصاری، پوست را کاسیو ضلع مراد آباد (یوپی)
غیر مقلدین سخت گمراہ بلکہ بحکم اکثر فقہا کافر ہیں ! غیر مقلدین کی نماز جنازہ پڑھنا سخت بد کام بد انجام ہے! جو غیر مقلد کی اقتدا کرتا ہو وہ سنیوں کا امام نہیں بن سکتا جب تک تو بہ نہ کرے! الجواب: (1) غیر مقلدین سخت گمراہ ہیں، بلکہ امام الوہابیہ اسماعیل دہلوی کے اقوال کفریہ ملعونہ کے معتقد ہوکر تقلید کو شرک جان کر بحکم اکثر فقہا یہ غیر مقلد کافر ہیں، ان کی اقتدا اور ان کی نماز جنازہ پڑھنا ان کے عقائد کفریہ جان کر بہت سخت بدکام بد انجام ہے جس سے تو بہ وتجدید ایمان کا حکم ہے، جب تک تو بہ و تجدید ایمان وتجدید نکاح (اگر بیوی رکھتا ہو ) نہ کرے،اسے امام بنانا روا نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ان سب پر تو بہ لازم ہے، تو بہ کے بعد انہیں امام بنایا جاسکتا ہے، جب کوئی اور مانع شرعی نہ ہو۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله واللہ تعالیٰ اعلم