مفتی شرع کے حکم کی نافرمانی اور بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کی اقتدا سے روکنے کا حکم
اعظم ہند رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا بتایا ہوا طریقہ تھا لکھ کر امام صاحب کا نیا طریقہ اور تربیت لکھ کر فتویٰ لیا تو مفتی شرع نے مفتی اعظم ہند کے طریقے پر چودہ رکعت پڑھانے کا حکم دیا جو امام صاحب نے نہیں مانا اور نہ اس پر کوئی عمل کیا اور نہ اس حکم کی کوئی وقعت جانی، اور وہ حاجی عمر و سے ناراض ہو گئے اور جمعہ کے دن مسجد میں حاجی کی عدم موجودگی میں یہ اعلان کیا کہ حاجی عمرو کے پیچھے کوئی نماز مت پڑھنا، یہ بلا کسی حکم شرع کے اعلان کے ساتھ کہا تو دریافت طلب امر یہ ہے (1) جو امام مفتی شرع کے حکم کی تعمیل نہ کرے اس پر کوئی دھیان نہ دے اور اس کے حکم کی کوئی وقعت اور عظمت نہ کرے اس کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ ایسے امام کا ساتھ دیں اور اس کے شریک ہوں، ان کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ (۲) جو امام کسی شخص کے خلاف اس کی عدم موجودگی میں بلا کسی حکم شرع کے نافذ کر کے اپنی طرف سے جھوٹا اور فرضی اعلان مسجد میں عام لوگوں کے سامنے انہیں اعلان سنانے کے لئے روکے اور سنائے جس سے اس کی تو ہین ہوتی ہو، ایسے امام کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ اور جو لوگ اس امام کے فرضی اعلان کی تعمیل کریں، ان کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: رفیق احمد قصبہ جام بازار بہیری ضلع بریلی
الجواب:(1) اٹھارہ رکعت پڑھانے سے کیا مراد ہے، اگر امام تمام رکعت میں جماعت کرتا ہے تو نوافل میں تداعی لازم آتی ہے جو نہ چاہئے اور اگر جماعت نہیں کرتا بلکہ لوگ بخوشی امام کے دباؤ کے بغیر اٹھارہ رکعت تنہا تنہا پڑھتے ہیں تو امام پر الزام نہیں اور فی نفسہ اس فعل میں بھی حرج نہیں بلکہ بہتر و کارثواب ہے جبکہ لا زم وضروری نہ جانتے ہوں اور اگر وہ لوگوں پر دباؤ ڈالتا ہے تو بے شک گناہ گار ہے اور اگر اس نے حاجی عمرو کی اقتدا سے بے وجہ شرعی لوگوں کو منع کیا تو گناہ کا مرتکب ہوا، تو بہ کرے اور عمرو سے معافی چاہے ورنہ لائق امامت نہیں ۔ اور اگر امامت عمر و کوممنوع بتانے کی کوئی وجہ شرعی ہے تو اس پر الزام نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ سخت گناہ گار، مستوجب نار، حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے، اور اس کے شر کا ء حال بھی مستوجب و بال، ان سب پر تو بہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۹ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ