امام کا کسی کو منافق کہنا اور دعائے ماثورہ کو حرام بتانے کا حکم
ہے کہ بعد میں نماز پڑھنے والے کو امام غصے میں منافق بنا دے یا اس کو قتل کا حکم دے یا اس کو کافر کہہ دے، ایسے امام کو کیا کرنا چاہئے ؟ اسے امام رکھیں یا نہ رکھیں؟ (۴) اگر کوئی امام نماز کے بعد دعاء ربنا اغفر لی ولوالدی یعنی دعائے ماثورہ پڑھے، نماز کے بعد یا نماز کے اندر تو نماز نہیں ہوگی یا ہو جائے گی؟ اس کا جواب عنایت فرمائیں اور اگر دعا کو عالم حرام قرار دے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اس کو خلاصہ کر کے ہمیں آگاہ کریں ۔ فقط
الجواب: المستفتی: محمد یونس رضوی ، مدرسہ فرقانیہ دو کال پورہ بہار واژه، گجرات (1) جائز ہے، بشرطیکہ امامت کا اہل ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر اس کا جرم شرعاً ثابت ومشتہر ہے تو وہ امامت کے لائق نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے وجہ شرعی کسی کو منافق کہنا اور مسلم کے قتل کا حکم دینا حرام بد کام بدانجام ہے، جس پر یہ جرم شرعی طور پر ثابت ہو وہ امامت کے لائق نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نماز ہو جائے گی اور اسے حرام بتا نا غلط و ناجائز اور شرع پر افترا ہے اور قائل پر تو بہ فرض ہے جب تک تو بہ صحیحہ نہ کرے اور صلاح حال ظاہر نہ ہو تو اسے امام نہ بنایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله