بلاوجہ امام کی اقتدا ترک کرنے اور امام کی توہین کرنے کا شرعی حکم
(1) زید اور مولانا کی کسی بات میں حجت ہوگئی تو زید نے مولانا کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا ، لوگوں نے زید کو سمجھایا کہ مولانا کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ہو؟ تو زید کہنے لگا: میں مولانا کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا، اسی دوران زید نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب تو میں نماز پڑھنا ہی چھوڑ دوں گا ۔ اس میں زید پر شرع کی طرف سے کیا حکم ہے؟ (۲) زید کہتا ہے کہ ہر متولی کو یہ حق ہے کہ امام کو ہر جائز اور نا جائز باتوں میں ڈانٹ سکتا ہے، کیا یہ کہنا اس کا سہی ہے؟ المستفتی: محمد لقمان کوئز محلہ برہم پورہ ، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: (1) برائے نفس بے وجہ شرعی امام شرعی کی اقتدا نہ کرنا گناہ ہے۔ زید ترک جماعت کا مرتکب ہوکر فاسق معلن ہوا، اس پر تو بہ لازم ہے اور یہ جو بکا کہ اب تو میں نماز - الخ “ اور زیادہ گناہ در گناہ ہے، اس سے بھی تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ اس کی واہیات ہے، امام کا احترام اس پر واجب ہے اور اہانت بے وجہ شرعی منع ہے، ناجائز بات پر بھی امام کو ڈانٹنا حق بتاتا ہے تو صاف ناحق کو حق بتایا جو بہت سخت ہے، علماء نے اس پر تو بہ و تجدید ایمان کا حکم فرمایا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۶ رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی