دیوبندیوں کے کفر اور ان کے پیچھے نماز کے ناجائز ہونے کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :\nہمارے یہاں بریلی اور دیوبندی کا جھگڑا پھیلا ہوا ہے، کوئی کہتا ہے کہ بریلی والے کے پیچھے\nنماز درست نہیں ہے اور بریلی والے کہتے ہیں کہ دیوبندی کے پیچھے نماز درست نہیں ہے۔ ان دونوں\nجماعت میں کون حق پر ہے؟ اور اہل سنت والجماعت کی نماز دیو بندی کے پیچھے کیوں نہیں ہوتی ہے؟\nدلیل کے ساتھ تحریر فرمائیں۔ فقط والسلام مع الاکرام\nالمستفتی : فقیر محمد نعیم الدین\nنئی مسجد محله شاه آباد، نیل گران، بریلی شریف (یوپی)
دیو بندی کا فر ہیں، جو اُن کے کفر میں شک کرے،خود کافر ہے!دیابنہ کے چند باطل\nعقائد ! اپنے عقیدے میں شک سامی ایمان ہے! الجواب: دیو بندی اپنے عقائد کفریہ ملعونہ کی وجہ سے ایسے کا فرو مرتد ہیں کہ علمائے حرمین شریف و مصر و ہند وسندھ وغيرہ نے ایسا بتا یا کہ جوان کے کفر و عذاب میں ان کے عقائد کفریہ جان کر شک کرے، وہ خود کافر ہے۔ (۱) ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے بلکہ بول چکا، دیکھو فتاولی گنگوہی۔ اور معاذ اللہ شیطان کا علم زیادہ ہے علم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ (۲) اور ان کا عقیدہ ہے کہ حضور جیسا علم ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو بھی حاصل ہے۔ (۳) اور یہ کہ حضور کو خاتم الانبیاء جاننا عوامی خیال ہے ختم زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں بلکہ حضور کے زمانے میں یا بعد زمانہ نبوی کوئی نبی مبعوث ہو، تو خاتمیت محمدی میں فرق نہ آئے گا۔ (۴) لہذا ان کو امام بنانا ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہوتے ہوئے انہیں مقتدا و پیشوا جاننا بلکہ ان کی اد فی العظیم کفر ہے۔ درمختار میں ہے: ،، تبجيل الکافر کفر (۵) اور یہ سوال کہ بریلی اور دیو بندی میں کون حق پر ہے، اگر مزید اطمینان کے لئے ہے تو حرج نہیں ور نہ اپنے عقیدے میں صریح شک کی بو دیتا ہے اور شک سامی ایمان ہے جس سے تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ الجواب صحیح والحجیب صحیح | الجواب صواب ۔ تحسین رضا غفرلہ | قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی اغلام مجتبی اشرفی غفرلہ (1) (r) حسام الحرمين والصوارم الهنديه براهین قاطعه رشید احمد گنگوهی (۳) حفظ الایمان اشرف علی تهانوی (۴) تحذير الناس، قاسم نانوتوی (۵) ، الدر المختار، ج ۹، ص ۵۹۲ باب الاستبراء دار الكتب العلمية، بيروت