مسجد کے صحن میں قبر اونچی کرنے اور فتویٰ کی مخالفت کرنے والوں کے بارے میں شرعی حکم
مسجد کا آدھا صحن ختم ہو جائے گا اور صحن کی جگہ تنگ ہو جائے گی۔ ممبران نے ان لوگوں سے کہا کہ حضرت مفتی اعظم ہند کے یہاں سے جو فتویٰ آیا ہے اس کے مطابق کام کریں گے، مگر ان لوگوں نے فتوے کی بات نہیں سنی پھر یہ طے پایا کہ سوداگران محلہ سے کسی مفتی صاحب کو بلایا جائے جو کچھ بھی وہ فرما ئیں اس پر عمل کرایا جائے ، ایک صاحب کو مقرر کیا گیا کہ وہ مفتی صاحب کو لائیں ، وہ صاحب رضوی دارالافتاء سوداگران سے مفتی کو اپنے ہمراہ لائے ، انہوں نے دیکھ کر فرمایا کہ اس کی ڈاٹ کو صحیح کر کے فرش کو ایک سا کر دیا جائے تا کہ لوگ نماز پڑھنے لگیں لیکن اس پارٹی نے مفتی صاحب کی بات پر عمل نہیں کیا اور رات ہی رات میں اس قبر کو اونچا کر کے بنادیا جن لوگوں نے مفتی صاحب کا حکم نہیں مانا اور صحن مسجد کو آدھا ختم کر دیا ان لوگوں کے لئے کیا حکم ہے؟ سائل: احمد میاں متولی مسجد دوہنی، بریلی
الجواب: بر تقدیر صدق سوال وصورت واقعہ وہ لوگ جنہوں نے فتویٰ کو نہ مانا اور مفتی صاحب کے فیصلہ کو بھی تسلیم نہ کیا سخت گناہ گار مستحق نار ہوئے پھر اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے وہ ڈیڑھ فٹ اونچی تعمیر ایسا ظلم ہے کہ بحکم قرآن اس سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ۔ قال تعالیٰ: وَ مَنْ أَظْلَمُ مَنْ مَنَعَ مَسْجِدَ اللهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا (1) یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں میں ذکر خدا سے روکے۔ اور انہیں ویران کرنے کی سعی کرنے پر ظاہر کہ جب ان لوگوں نے وہ تعمیر کی ضرور صحن مسجد تنگ ہوا اور جب وہ تنگ ہوا ضرور جماعت میں قلت ہوئی اور کچھ لوگ ضرور جماعت میں شرکت سے محروم ہوئے اور یہ محرومی ان لوگوں کے غیر ضروری تصرف سے آئی تو ضرور یہ وعید شدید قرآن مجید ان کے سر آئی نیز حدیث میں وارد ہوا کہ : من اذى مسلما فقد اذانى ومن اذانى فقد اذى الله ومن اذى الله يوشک ان یاخذہ (۲) جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے خدا کو ناراض کیا تو اللہ قریب ہے کہ اسے پکڑ لے۔ ظاہر ہے کہ اس فعل سے مسلمین کو ایذا پہنچی تو یہ رسول علیہ (1) سورة البقرة : ١١٤ (۲) فيض القدير شرح الجامع الصغير ج ۲ ص ۲۵ ، حرف الميم رقم الحدیث ۸۲۶۹ الصلوة والسلام اور خدائے پاک کی ناراضگی کا باعث ہوئی۔ والعیاذ باللہ تعالی۔ پھر اگر یہ فعل اوقاف کی آمدنی سے کیا تو ظلم بالائے ظلم ہے اور ان لوگوں پر تاوان لازم ہے اور اگر اپنے صرف سے کیا جب بھی اسراف بیجا ہوا اور اسراف یہی ہے کہ خلاف حکم شرع کچھ خرچ کرے اگر چہ ایک پیسہ چہ جائیکہ اتنی کثیر رقم - قرآن ایسوں کی مذمت میں فرماتا ہے: إنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيطين () بیجا خرچ کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں۔ بالجملہ یہ فعل مجموعہ محرمات ہے جس میں ہر ہر جرم سے تو بہ لازم ہے اور اس عمارت کو منہدم کر کے اسی طرح کریں جس طرح مفتی صاحب نے بتایا اور سوال میں ذکر ہوا، اسی طور سے کہ قبر کے گردا گرد ایک ایک بالشت کے فاصلے سے ایک چار دیواری اُٹھا ئیں کہ سطح قبر سے چوتھائی گزیا زیادہ اونچی ہو، ان دیواروں پر پتھر ڈال دیں یا لکڑیاں چن کر پاٹ دیں کہ چھت اب یہ ایک مکان ہو گیا جس کے اندر قبر ہے، اس کی چھت پر اور اس کی دیوار کی طرف ہر طرح نماز جائز ہوگئی کہ یہ نماز قبر پر یا قبر کی طرف نہ رہی بلکہ ایک مکان کی چھت پر یا اس کی دیوار کی جانب ہوئی ، اس میں حرج نہیں ، مسلک متقسط میں ہے: ان كان بين القبر والمصلى حجاب فلاتکرہ الصلاۃ (۲) هذا نبذة من الكلمات القدسية في الفتاوى الرضوية جئنا بها تبركا وان كانت مستغنيا عنها هذا ما عندى والعلم بالحق عند ربی و صلی اللہ تعالی علی النبی محمد سندی ليومى وعندى وآله وصحبه وبارک وسلم الی یوم القیام فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی صح الجواب تحسین رضا غفرلہ تو بہ کی اور آپس میں میل جول کی ۔ جواب صحیح ہے۔ مولیٰ تعالیٰ قبول کی توفیق دے اور بیجا نزع کرنے والوں کو صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر مصطفیٰ رضا القادری غفرلہ ریاض احمد سیوانی غفرلہ