جامع مسجد میں سیاسی اجتماعات منعقد کرنے اور مسلمانوں کو منافق کہنے کا شرعی حکم
دریافت طلب امر یہ ہے کہ: (1) ایسی حالت میں سیاسی افراد کا جامع مسجد میں سیاسی اجتماعات منعقد کرنا شرعاً جائز ہے یا نا جائز ؟ (۲) ایسا کوئی بھی عمل جو مسلمانوں میں فتنہ وفساد اور افتراق بین المسلمین کا سبب ہو، اس کا کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ (۳) جن سیاسی افراد نے جامع مسجد میں سیاسی اجتماعات کی مخالفت کرنے والے مسلمانوں کو منافق کہا، ان کا شرعاً کیا حکم ہے؟ مستند کتابوں کے حوالہ جات سے مفصل جواب تحریر فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔ نیز عربی و فارسی عبارات کا ترجمہ بھی فرمادیں۔ المستفتی : احمد یار خاں عرف چھٹن خاں، محلہ مسجد شہتوت والی گونڈ یہ تالاب، رامپور
الجواب: (1) فی الواقع مسجد میں ذکر الہی اور عبادت کے لئے ہیں، وہاں دنیا کی جائز بات بھی مباح نہیں مگر بقدرضرورت ۔ بلکہ حدیث میں آیا ہے کہ مسجد میں دنیا کی بات کرنا نیکیوں کو کھا جاتا ہے جس طرح لکڑی کو آگ کھا لیتی ہے۔ اور سیاست مروجہ مذہبی قیود کی پابند نہیں اور اس کے حامل اشخاص کی مذہبی حیثیت معلوم ۔ لہذا مناسب ہی نہیں بلکہ اشد لازم و آکر ہے کہ مساجد کو سیاسی بازیگری سے محفوظ رکھا جائے خصوصاً جبکہ سیاسی حریف ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں اور ایک دوسرے کو ناحق برا کہیں اور اس پر فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو ، ایسی صورت میں انہیں مساجد سے روکنا لا زم تر ۔ در مختار میں ہے: ”ويمنع منه وكذا كل موذولو بلسانه ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حرام اشد حرام، بد کام بد انجام ہے۔ قال تعالى: وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ(۲) یعنی فتنہ قتل سے سخت تر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ان کا حکم قرآن کریم بتا رہا ہے: وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ بِغَيْرِ مَا (1) الدر المختار، ج ۲، ص ۴۳۶ ، ۴۳۵، کتاب الصلوة، باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيهها ، دار الكتب العلمية بيروت (۲) سورة البقرة: ١٩١ اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں، انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ رذی الحجہ ۱۴۰۷ھ