جو جامع شرائط نہیں اسے امام بنا نا منع ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک گاؤں میں ایک مسجد ہے اور ایک امام صاحب کو اس مسجد میں چند حضرات نے نماز پڑھانے کی اجازت دی ہے اور کچھ حضرات روکتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ امام صاحب بالکل پڑھے لکھے نہیں ہیں، تھوڑی ہندی ، اُردو جانتے ہیں اور قرآن کی چندسورتیں جانتے ہیں اور صحیح بھی پڑھتے ہیں، کیا ان کی امامت صحیح ہے ؟ اور گاؤں میں جو پڑھے لکھے ہیں، وہ امامت کرنا نہیں چاہتے ہیں ۔ فقط والسلام المستفتی: شاه محمد مقام رو دھولی کلاں ، پوسٹ سپری ضلع بریلی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: سنی صحیح العقیدہ صحیح خواں جامع شرائط امامت منتقی غیر فاسق واقف احکام ضرور یہ طہارت و نماز کو امام بنانا چاہئے ، امام مذکورہ میں اگر شرائط مذکورہ نہیں تو اسے امام بنانا منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ رذی قعدہ ۱۳۹۶ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
دیوبندیوں کے کفر اور ان کے پیچھے نماز کے ناجائز ہونے کی شرعی حیثیت
باب: کتاب الصلوٰۃ
مسجد کے صحن میں قبر اونچی کرنے اور فتویٰ کی مخالفت کرنے والوں کے بارے میں شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
صرف رمضان میں نماز پڑھنے والا اور سنیما دیکھنے والا، دونوں فاسق ہیں ! فاسق کی امامت کا حکم !
باب: کتاب الصلوٰۃ
جامع مسجد میں سیاسی اجتماعات منعقد کرنے اور مسلمانوں کو منافق کہنے کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بلاوجہ امام کی اقتدا ترک کرنے اور امام کی توہین کرنے کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ