صرف رمضان میں نماز پڑھنے والا اور سنیما دیکھنے والا، دونوں فاسق ہیں ! فاسق کی امامت کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ: خالد وحامد دونوں حافظ قرآن ہیں، سال بھر نمازیں نہیں پڑھتے ہیں، رمضان سے پندرہ روز پیشتر نماز پڑھنا شروع کرتے ہیں، خالد صاحب سنیما و منڈیلی بھی دیکھتے ہیں اور حامد صاحب اسمگلر کو روپیہ دے کر تجارت کے لئے نیپال سے کپڑا بھی منگواتے ہیں اور لوگوں کے کہنے پر مسجد میں تو یہ بھی کر لیتے ہیں کہ آئندہ سے نمازیں پڑھوں گا، پھر سال بھر نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔ ایسے حافظوں کے پیچھے ختم تراویح پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ جو لوگ ایسے حافظوں کو جان بوجھ کر امام بناتے ہیں، ان کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
امستفتی اسرار احمد ومصلیان محلہ کھبا پور ضلع پیلی بھیت الجواب: یہ دونوں بر تقدیر صدق سوال سخت فاسق و فاجر فریب کار ہیں، انہیں بعد تو بہ بھی اس وقت تک امام بنانا منع ہے جب تک کہ اتنی مدت نہ گزر جائے جس میں ان کا صلاح حال ظاہر ہو جائے ۔ واقفان حال جو انہیں دانستہ امام بناتے ہیں، گناہ گار ہیں۔ تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر ضاخاں از هری قادری غفرله