نامرد کی امامت اور چغل خور یا دعا کو حرام کہنے والے کے پیچھے نماز کا حکم
نا مردیا جس کی قوت باہ ختم ہو چکی ہو، کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟ قوم میں رخنہ ڈالنے والا قوم کا امام نہیں ہو سکتا ! بے وجہ شرعی کسی کو منافق کہنا حرام ہے مسلم کے قتل کا حکم دینا حرام ہے دعائے ماثورہ اندرون نماز یا بیرون نماز پڑھنے سے نماز ہو جائیگی ! دعا کو حرام بتانا نا جائز و افترا ہے ! دعا کو حرام بتانے والا لائق امامت نہیں! بخدمت جناب قبلہ و کعبہ معظم و مکرم آقائی و مولائی حضور مفتی اعظم مدظلہ العالی ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته بعد سلام مسنون کے حضور کی خدمت میں یہ پرچہ پیش کر رہا ہوں اس پر توجہ فرماتے ہوئے اس ناچیز کیا بلکہ تمام حضرات اہل سن کو مشرف فرمائیں، چنانچہ حضرت سے بے ادبی کی معافی کا طلبگار ہوتے ہوئے میرے سوال کا جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں، عین نوازش ہوگی ۔ حضور پہلا سوال تو یہ ہے: (۱) اگر امام نامرد ہو یا قریب آٹھ دس سال سے اس کے اندر اتنی طاقت یا قوت نہ ہو کہ وہ صحبت کر سکے تو حضرت اس کو امام رکھنا یا اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔ (۲) قوم میں رخنہ ڈالتا ہو یا ادھر کی بات اُدھر کہتا ہو، تو اس کو امام بنانا یا اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ جواب عطا فرمائیں۔ (۳) کوئی اہل عقیدہ سنی یعنی بریلی شریف سے بیعت ہو ، وہ کسی بنا پر جماعت کے بعد نماز مسجد میں پڑھنے جائے یا امام میں کوئی وجہ ہو اس کے ساتھ نہ پڑھے جماعت کے بعد پڑھے تو کیا امام کا یہ حق ہوتا
الجواب:المستفتی: محمد یونس رضوی ، مدرسہ فرقانیہ دو کال پورہ بہار واژه، گجرات(1) جائز ہے، بشرطیکہ امامت کا اہل ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۲) اگر اس کا جرم شرعاً ثابت ومشتہر ہے تو وہ امامت کے لائق نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۳) بے وجہ شرعی کسی کو منافق کہنا اور مسلم کے قتل کا حکم دینا حرام بد کام بدانجام ہے، جس پر یہ جرم شرعی طور پر ثابت ہو وہ امامت کے لائق نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۴) نماز ہو جائے گی اور اسے حرام بتا نا غلط و ناجائز اور شرع پر افترا ہے اور قائل پر تو بہ فرض ہے جب تک تو بہ صحیحہ نہ کرے اور صلاح حال ظاہر نہ ہو تو اسے امام نہ بنایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله۱۸ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھ/ در سفر