غلط قرآت کرنے والے اور مسائل نماز سے ناواقف شخص کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: محمد رفیق عالم صاحب ایک بہت ہی غریب آدمی ہیں، مسجد سادھو محلہ بہاری پور میں امامت کرتے ہیں، مگر جناب محمد رفیق عالم نماز میں قرآن شریف بقدر ما یجوز الصلوۃ نہیں پڑھ پاتے ہیں ،سورہ ” تبت یدا “ میں ”سَيَضلی “ کو سیصلی “ اور سورہ ناس میں ”يُوَسْوِسُ “ کو ” وَ سَوَيْس “ غرض کہ بہت غلط پڑھتے ہیں ۔ ”يُوَسْوِسُ “ کو پچیس منٹ تک مشق کرایا لیکن ”یو سویس “ کے علاوہ ” يُوَسْوِسُ “ نہ کہہ سکے، یہ بات بھی نہیں کہ زبان میں فسلا ہٹ ہو اور یہ بات بھی نہیں کہ بنگالی ہو، جس بنا پر زبان نہ ٹوٹ رہی ہو۔ حضور والا اگر اپنے کانوں سے ان کی قرآت سماعت فرمائیں گے تو بغیر لاحول پڑھے نہ رہ سکیں گے۔ کیا ایسی صورت میں ان کے پیچھے ان کی غریبی کو دیکھتے ہوئے نماز ہو جائیگی ؟ نماز کے مسائل ضرور یہ سے قطعاً بے خبر ہیں، اگر امام صاحب مذکور سے پوچھا جائے کہ بتائیے وضو میں کتنے فرائض ہیں اور نماز میں کتنے فرائض و واجبات ہیں، ہرگز نہ بتا پائیں گے پھر بھی اگر چاہیں تو انہیں امام بنانا، درست ہوگا یا نہیں؟ ان کے پیچھے اب تک جس جس نے جتنی نمازیں پڑھیں، ہو ئیں یا نہیں؟ یہ جانتے ہوئے کہ یہ امام
مسئله - ۳۸۷ جو بقدر ما یجوز بہ الصلوة" تجوید نہیں جانتا نہ ہی تصحیح حروف پر قادر ہو، اس کے پیچھے نماز باطل محض ہے تصحیح حروف کی کوشش کرنا لازم ہے! حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق ایک روایت اور اس کا جواب ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: محمد رفیق عالم صاحب ایک بہت ہی غریب آدمی ہیں، مسجد سادھو محلہ بہاری پور میں امامت کرتے ہیں، مگر جناب محمد رفیق عالم نماز میں قرآن شریف بقدر ما یجوز الصلوۃ نہیں پڑھ پاتے ہیں ،سورہ ” تبت یدا “ میں ”سَيَضلی “ کو سیصلی “ اور سورہ ناس میں ”يُوَسْوِسُ “ کو ” وَ سَوَيْس “ غرض کہ بہت غلط پڑھتے ہیں ۔ ”يُوَسْوِسُ “ کو پچیس منٹ تک مشق کرایا لیکن ”یو سویس “ کے علاوہ ” يُوَسْوِسُ “ نہ کہہ سکے، یہ بات بھی نہیں کہ زبان میں فسلا ہٹ ہو اور یہ بات بھی نہیں کہ بنگالی ہو، جس بنا پر زبان نہ ٹوٹ رہی ہو۔ حضور والا اگر اپنے کانوں سے ان کی قرآت سماعت فرمائیں گے تو بغیر لاحول پڑھے نہ رہ سکیں گے۔ کیا ایسی صورت میں ان کے پیچھے ان کی غریبی کو دیکھتے ہوئے نماز ہو جائیگی ؟ نماز کے مسائل ضرور یہ سے قطعاً بے خبر ہیں، اگر امام صاحب مذکور سے پوچھا جائے کہ بتائیے وضو میں کتنے فرائض ہیں اور نماز میں کتنے فرائض و واجبات ہیں، ہرگز نہ بتا پائیں گے پھر بھی اگر چاہیں تو انہیں امام بنانا، درست ہوگا یا نہیں؟ ان کے پیچھے اب تک جس جس نے جتنی نمازیں پڑھیں، ہو ئیں یا نہیں؟ یہ جانتے ہوئے کہ یہ امام صاحب نماز میں اس قدر قرآن شریف صحیح نہیں پڑھ پاتے ہیں کہ جس سے نماز درست ہو، پھر ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ از روئے شرع اقتدا کرنے والوں پر کیا حکم ہوگا ؟ اس امام کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر قیاس کرنا کیسا ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔ عین کرم ہوگا۔ المستفتی: حافظ سراج احمد ، بریلی الجواب: فی الواقع جب کہ وہ شخص به قدر ما يجوز به الصلوة تجوید نہیں جانتا ہے، نہ ہی مقدار بھر تصحیح حروف پر قادر ہے تو اس کے پیچھے نماز باطل محض ہے، پچھلی نمازوں کا اعادہ ضروری ہے، اسے لازم ہے کہ حتی الوسع تصحیح مخارج کی کوشش کرتا رہے، ورنہ اشد گناہ گار مستحق نار ہے، اسے امام نہ رکھا جائے اور حضرت بلال پر قیاس جس روایت کی بنا پر کیا وہ بے اصل ہے، صرح بہ السیوطی فی الدر المنشور ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۱ / شعبان المعظم ۱۳۹۷ھ