میت کی بے حرمتی، وصیت کے خلاف تدفین اور ناجائز امامت و تسلط کے بارے میں سوال
بھائی حضرت نورالحسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو قریب دس پندرہ سال سے پریشان کرتے آرہے تھے، حضرت صاحب پر مار پیٹ و فوجداری کے جھوٹے مقدمات کر رکھے تھے ،حضرت صاحب کو کبھی چین کی سانس نہیں لینے دیتے تھے، اگر کوئی معزز آدمی ان کو سمجھوتہ پر آمادہ کرے، ان سے تحریری کجھوتہ نہ کرواتے تو یہ لوگ کچھ روپیہ پیسہ تحریر کے بموجب لے کر پانچ دس روز بعد اس معاہدے اور تحریر سے مکر جاتے اور وہی پرانے فعل شرع کر دیتے ، ایسا کئی مرتبہ ہوا، دوسرے کسی بھی معاہدے کو جو اُن کے خلاف جاتا ہو، قرآن پاک کی قسم کھا کر جھوٹ بول لینا آج جس بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے قرآن شریف اُٹھاتے ہیں، اسی بات کو جھوٹ بتانے کے لئے بھی اسی طرح قرآن پاک اُٹھا لیتے ہیں۔ ان تینوں محمد عارف ، غلام جیلانی و غلام معین الدین نے قبلہ پیر نورالحسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی وصیت کے خلاف آپ کو درگاہ کے اندر دفن کر دیا، بغیر نسل، بنا کفن کے، گھر والوں کو آخری مرتبہ شکل تک دیکھنے نہیں دی۔ (۲) مرحوم سجادہ نشین و متولی جناب پیر نورالحسن صاحب کی لاش مبارک کو یہی تینوں بھائی اپنے کچھ ساتھیوں اور پولیس کی مدد سے ان کے گھر میں گھس کر رات کو قریب اربجے مرحوم کی بیوی بچوں اور ان کے چند رشتہ داروں و مریدوں کو مار پیٹ کر لاش مبارک کو گھسیٹتے ہوئے ، گالیاں دیتے ہوئے ، دیواروں سے ٹکریں مارتے ہوئے ، لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے گھر سے لے گئے ، آخری رسومات ادا کئے بنا ہی بغیر غسل و کفن کے ان لوگوں نے مرحوم کو درگاہ شریف کے اندر (ان کی وصیت کے خلاف ) دفنا دیا، قریب اربجے لاش لے گئے تھے اور اربج کر ۳۵ منٹ پر دفن کر دیا۔ جبکہ دفن کا وقت صبح ساڑھے نو بجے کا رکھا گیا تھا تا کہ مریدین وعزیز واقارب شامل ہوسکیں۔ (۳) غلام جیلانی نے دوران عرس درگاہ شریف کی جامع مسجد میں ایک اشتہار چسپاں کیا کہ ان کی اجازت کے بغیر کوئی شخص جامع مسجد و چھوٹی مسجد میں امامت نہ کرے، جبکہ درگاہ کی ان دونوں مسجدوں میں امام کا تقرر سجادہ نشین و متولی کرتا ہے، موجود و سجادہ نشین جناب غلام نصیر صاحب سجاده نشین و متولی ابھی نابالغ ہیں اور ان کے سر پرست والد تمام انتظامات سنبھالتے ہیں ، اس مرتبہ جن امام صاحب کا تقرر کیا، ان کو یہ نماز پڑھانے نہیں دیتے۔ جمعہ کے روز غلام جیلانی امامت کو کھڑا ہو جاتا ہے و دیگر روز غلام معین الدین، جبکہ مقتدی نہیں چاہتے کہ یہ لوگ امامت کریں کیوں کہ یہ لوگ ظلم و ستم فریب و مکاری کے
الجواب:مستفتی: سید علاؤ الدین عارف/ معرفت پیر غلام نصیرسجاده نشین و متولی درگاه حضرت خواجہ حاجی محمد نجم الدین صاحببر تقدیر صدق سوال یہ لوگ جن کے یہ افعال تحریر ہوئے ،سخت گناہ گار مستوجب نارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہیں، ان میں سے کوئی شخص لائق امامت نہیں، ان سب پر تو بہ لا زم ہے اور جسے آزار پہنچایا، اس سے معافی چاہنا بھی ضرور ور نہ ہر واقف حال مسلم پر فرض ہے کہ انہیں چھوڑ دے ۔واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہالجواب صحیح واللہ تعالی اعلمبہاءالمصطفیٰ قادری