رمضان المبارک میں تراویح کے لیے سامع کی ضرورت اور اس کی قابلیت کا بیان
جناب مفتی اعظم صاحب، بریلی شریف ! السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: رمضان شریف کے مہینے میں امام کے پیچھے سامع رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر سامع رکھا جائے تو کس قابلیت کا حافظ ہونا چاہئے ؟ آج کل لوگ اپنی مرضی سے سماعت کرنے والا اپنے پیچھے کھڑا کر لیتے ہیں جو خود مکمل حافلا نہیں ، وہی سماعت کرتے ہیں، اس سلسلہ میں شرعی حکم کیا ہے؟ صاف تحریر فرما ئیں۔ سائل : انیس الحسن خاں ، جامع مسجد کے قریب تحصیل پورن پور، پیلی بھیت
جس حافظ سے غلطی کے احتمالات زیادہ ہیں اسے امام نہ بنایا جائے احافظ کے پیچھے سامع اچھا حاظ رکھنا چاہیئے! حافظ اگر نیا ہے جس سے غلطی کا احتمال زیادہ ہے تو اسے امام ہی نہ بنانا چاہئے اور اگر خوب پختہ یاد ہے تو سامع ضرور نہیں، البتہ مستحب ہے اور سامع اچھا حافظ ہونا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۵ رمضان المبارک ۱۴۰۷ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی