ایک آنکھ والے کے پیچھے نماز کا حکم !
سوال
مکرمی جناب اختر رضا خاں صاحب قبلہ ! السلام علیکم ۲۷ /شعبان المعظم ۱۴۰۲ھ عرض خدمت عالیہ یہ ہے کہ ایک سوال ارسال کیا جا رہا ہے امید ہے کہ جواب جلد عنایت فرمائیں گے اور حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم کی خدمت میں عرض ہے، زید کی ایک آنکھ درست نہیں ہے اور وہ ایک گاؤں میں امامت کرنا چاہتا ہے، لیکن وہاں کے کچھ آدمی کہتے ہیں کہ ایک آنکھ زید کی خراب ہے اس کے پیچھے نماز درست نہیں ، اس لئے ہم اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے اور بکر کہتا ہے کہ صحیح ہے۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں؟ بینوا توجروا لمستفتى : عبدالمجيد صدیقی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اگر وہ شخص صحیح خواں اور جامع شرائط امامت ہے تو اس کے پیچھے نماز بے کراہت جائز ہے۔ وھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶ ؍ رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۲۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
امام کا انجمن کے صدر کی حیثیت سے مالی حسابات نہ دینا اور بدکردار شخص کو سکریٹری بنانا
باب: کتاب الصلوٰۃ
نامحرم لڑکی سے میل جول رکھنے والے امام کی امامت اور بچیوں سے ہاتھ پیر دبوانے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
میت کی بے حرمتی، وصیت کے خلاف تدفین اور ناجائز امامت و تسلط کے بارے میں سوال
باب: کتاب الصلوٰۃ
تعصب کی بنا پر اقتدا نہ کرنا نا جائز و گناہ ہے ! بے وجہ شرعی کسی کو برا کہنا گناہ گالی دینا حرام ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
رمضان المبارک میں تراویح کے لیے سامع کی ضرورت اور اس کی قابلیت کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ