تعصب کی بنا پر اقتدا نہ کرنا نا جائز و گناہ ہے ! بے وجہ شرعی کسی کو برا کہنا گناہ گالی دینا حرام ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: (1) موضع اودے پور میں دو حافظ قرآن سناتے ہیں، ایک صاحب دس رکعت میں ایک پارہ اور دوسرے صاحب اگلی دس رکعت میں ایک پارہ ستاتے ہیں، سامعین کی تین چار صفیں ہو جاتی ہیں، ان میں چند ایسے ہیں جو ایک حافظ صاحب سے بھی رقابت رکھتے ہیں اور اس بنا پر وہ ایک حافظ صاحب کے پیچھے کھڑے ہو کر دس رکعت پڑھتے ہیں اور اگلی دس رکعت محض حافظ صاحب سے تعصب کی بنا پر ان کے پیچھے کھڑے ہو کر نہیں پڑھتے اور اس مسجد میں الگ اپنی دس رکعت پوری کر کے گھر چلے جاتے ہیں، کیا ایسی صورت میں یہ قرآن شریف کی بے ادبی نہیں ہے؟ اور جن کے دلوں میں تعصب ہے،ان کی نماز کیسی ہوگی؟ (۲) اس موضع میں ایک حافظ صاحب ہیں، وہ بچوں کو پڑھاتے ہیں اور انہوں نے کئی حافظ کرا دیئے، ان کے شاگردوں میں کچھ غریب خاندان کے لڑکے تھے جنکو حافظ صاحب نے قرآن شریف حفظ کرایا اس پر ایک حاجی صاحب ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ حافظ کہاں سے اس گاؤں میں آگئے ، جو انہوں نے تمام نو عمر لڑکوں کو حافظ بنا دیا۔ المستحقي: امیر احمد موضع اور سے پور ڈاکخانہ پیلی بھیت
الجواب: (۱) براہ تعصب اس حافظ کی اقتدا سے باز رہنا نا جائز و گناہ اور اپنا نقصان ہے، بے وجہ شرعی تعصب ہی کب جائز ہے؟ کہ اسے ترک اقتدا کی وجہ بنایا جاتا ہے، اس شخص پر تو بہ لا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے وجہ شرعی کسی کو برا کہنا گناہ ہے اور گالی دینا حرام ہے، ان حاجی صاحب پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ ؍ر رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ صح الجواب۔ و المولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی