نسبندی کرانے والا بعد تو یہ وصلاح حال لائق امامت ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : (۱) نسبندی کیا ہوا شخص تو بہ کرے تو نماز اس کے پیچھے ہوسکتی ہے یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (1) ہاں جبکہ اس کا صلاح حال ظاہر ہو۔ اللہ تعالیٰ اعلم المستفتی: عبدالجلیل مسجد هلرانی پوره، ناگپور شطرنجی فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ رشعبان المعظم ۱۳۹۸ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۲۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
تعصب کی بنا پر اقتدا نہ کرنا نا جائز و گناہ ہے ! بے وجہ شرعی کسی کو برا کہنا گناہ گالی دینا حرام ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
قل ھواللہ احد کے اللہ الصمد سے فصل اور وصل کی صورتیں اور تلفظ کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
نامحرم لڑکی سے میل جول رکھنے والے امام کی امامت اور بچیوں سے ہاتھ پیر دبوانے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بہتان تراشی گناہ کبیرہ ہے ! بہتان تراش امامت کے لائق نہیں!
باب: کتاب الصلوٰۃ
ایک آنکھ والے کے پیچھے نماز کا حکم !
باب: کتاب الصلوٰۃ