بہتان تراشی گناہ کبیرہ ہے ! بہتان تراش امامت کے لائق نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (۱) ہندہ و فرزانہ دونوں سہیلی ہیں اور دونوں معلمہ بھی ہیں، دونوں نے مل کر ایک مکان کرایہ پر لیا اور اسی میں رہ کر بچوں کو اپنی تعلیم دیتی ہیں، مکان میں دو کمرے ہیں ، ہندہ شادی شدہ ہے، ہندہ کا شوہر امامت کرتا ہے، زید شریعت مطہرہ کی پاسداری کرتے ہوئے ہندہ کی سہیلی سے ہمیشہ اجتناب کرتا ہے، کسی قسم کی بے پردگی نہیں ہوتی ہے اور نہ زید کا ہندہ کی سہیلی فرزانہ سے کسی قسم کا تعلق ہے، فرزانہ کا گھر بھی قریب ہی میں ہے، مگر کسی مجبوری کے سبب وہ اپنے لئے ہوئے کرایہ کے مکان میں رہتی ہے، زید اپنے بچوں کو لے کر پرانے گھر میں رہتا ہے اور تقریباً چار سال ہو چکے ہیں، فرزانہ سے زید کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہذا امر طلب یہ ہے کہ زید کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۲) بہتان تراشی کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟ اور اس کی شہادت قابل قبول ہے کہ نہیں؟ المستفتی :فرزانہ پروین قصه نواب منبج، بر ملی شریف
الجواب: (۱) صورت مسئولہ میں زید کی امامت اس وجہ سے مکروہ نہیں ہے اور اس کی اقتدا جائز ہے جبکہ کوئی وجہ شرعی مانع امامت نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بهتان شدید کبیرہ عظیم گناہ ہے، اس کا مرتکب سخت گناہ گار مستحق نار ہے، اس کی اقتدا مکروہ تحریمی بشر طیکہ اس کا جرم شرعی طور پر ثابت ہو اور اس کی شہادت مردود۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵/ذیقعده ۱۴۰۶ھ