جو شرعا امام نہیں ہو سکتا اسے امام بنانا خلاف شرع ہے، اسے مسجد کی آمدنی سے تنخواہ دینا جائز نہیں نیز اس کی اقتدا میں پڑھی گئی نماز واجب الاعادہ ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: جناب کی خدمت میں ایک سوال ارسال کیا تھا جس کا جواب نمبر ۳۳/ ۱۲۸-۸،۹۲ رذی قعدہ کو موصول ہوا۔ جب بعد نماز جمعہ یہ فتویٰ مسلمانوں کی ایک کثیر جماعت جس میں انتظامیہ کمیٹی کے منتظمین بھی موجود تھے ، ان کے سامنے امام مسجد کو بلایا گیا تو اس نے بے ساختہ برگشتہ ہو کر کہا کہ میں ایسے فتوے کو ہرگز ماننے کو تیار نہیں۔ امام کی اس نازیبا اور باغیانہ حرکت پر بعض لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کر دیا اور وہ ہنوز صحن مسجد میں کبوتر پالے ہوئے ہے اور غیر مسلم عور تیں اسی طرح اب بھی تعویذ وغیرہ لینے کے لئے اس کے پاس برابر آرہی ہیں۔ لیکن اس امام نے مشتعل ہو کر خود ہی اپنے استعفیٰ کی درخواست مورخه ۱۱ نومبر کو مسجد انتظامیہ کمیٹی کے صدر موصوف کو دیتے ہوئے یہ تحریر کی کہ مجھ کو ۱۰۰ / روپیہ دیے جائیں۔ میں موجودہ خدمت انجام دینے پر ہر گز تیار نہیں ہوں، اگر میری تنخواہ میں اضافہ نہ کیا گیا تو تاریخ یکم دسمبر ۱۹۷۷ء سے میرا استعفیٰ منظور فرما کر دوسرے امام کا انتظام کرلیا جاوے۔لہذا انتظامیہ کمیٹی نے مؤرخہ ۱۴ دسمبر کو امام کا استعفیٰ منظور کرنے کا فیصلہ کر دیا مگر ۱۰ر دسمبر تک اس امام کو اسی جگہ پر مزید امامت کرنے کا بھی فیصلہ کر دیا۔ اس پر چندلوگوں نے اعتراض کیا کہ مزید توسیع کی ضرورت نہیں چونکہ جب ایسے امام کے پیچھے نماز درست نہیں تو پھر توسیع بھی خلاف شرع ہوگی ، اس لئے اس کو ۵ دسمبر سے علیحدہ کر دینا مناسب ہوگا۔ لیکن کمیٹی میں اکثریت نے اس تجویز کو نا پسند کرتے ہوئے یہی فیصلہ کیا کہ امام مذکور ۱۰ ؍ دسمبر تک نماز پڑھاتا رہے۔ کیا ایسی صورت میں وہ امام ان ایام توسیع کی تنخواہ پانے کا از روئے شریعت مستحق ہے؟ یا نہیں؟ جب کہ امام خود ہی اپنے استعفیٰ کے اندر یہ تحریر کر چکا ہو کہ میں یکم دسمبر سے کام کرنے کو تیار نہیں۔ انتظامیہ کمیٹی کا یہ فیصلہ کہ اس امام کو بلا وجہ ۱۰؍دسمبر تک نماز پڑھانے کا موقع دے دیا۔ خلاف شریعت معلوم ہوتا ہے ایسی صورت میں ان ایام توسیع کی تنخواہ از روئے شریعت انتظامیہ کمیٹی کے کن حضرات کو اپنے پاس سے دینا مناسب ہوگا، کمیٹی کے سکریٹری صاحب جوصوم وصلاۃ
الجواب: اپوزٹ تھا ہی پور، گاندھی روڈ ، گوالیر - ۶ (ایم پی ) صورت مسئولہ میں جبکہ شرعاً اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا منع ہے تو یہ توسیع اس کی مدت امامت میں ضرور خلاف شرع ہے اور مسجد کی آمدنی سے اسے تنخواہ دینانا جائز ہے۔ دینے والے پر رقم کا تاوان لازم اور جو واقف حال اس کی اقتداء کریں اور جنہوں نے اس کی حرکت غیر شرعی جان کر اقتداء کی، گناہ گار ہیں۔ ان پر ان نمازوں کا اعادہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ