چوری کی بجلی استعمال کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
کیا حکم ہے اس مسئلہ میں کہ: مقامی جامع مسجد کے امام جو مسجد کے احاطہ میں بنے کمرہ میں رہتے ہیں اور بغل سے گزرتی ہوئی بجلی لائن سے ناجائز اور غیر قانونی طور پر کھینچے ہوئے تار سے بلب جلاتے ہیں اور مستقل طور سے ان کے کمرہ میں اس ناجائز روشنی کا استعمال ہوتا ہے، یہاں تک کہ کلام پاک کی تلاوت بھی اسی روشنی میں عام طور سے کرتے ہیں۔ چونکہ بجلی محکمہ کے ایک آدمی ان کے بغل میں رہتے ہیں، اس لئے پکڑے جانے کا ڈران کو نہیں ہے۔ لوگوں کے اس اعتراض پر شریعت کا حوالہ دینے پر کہ یہ قطعی طور سے چوری ہے، غیر قانونی کام ہے اور ناجائز کام ہے۔ امام موصوف اس بلب یا تارکو اپنے کمرہ سے الگ کرنے کے لئے یا اس روشنی کا استعمال بند کر دینے کے لئے تیار نظر نہیں آتے ، ایسے کردار اور مزاج والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا یا ایسے امام کو مسجد کا امام بنائے رکھنا شریعت کی نظر میں کیسا ہے؟
الجواب: فی الواقع اگر وہ امام اس طریقہ غیر قانونی پر یا غیر شرعی طور پر مسجد کی بجلی استعمال کرتا ہے تو سخت گناہ گار کہ غیر قانونی طریقہ پر مسجد کی مالیت کو ضرر کا اندیشہ ہے جس کا سبب یہ امام بن رہا ہے اور غیر شرعی طور پر مسجد کی بجلی کا استعمال مطلقاً نا جائز ہے۔ ایسے امام کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے، جب تک تو بہ نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله