مسجد کی امانت میں خیانت، زنا، غلط قرآن خوانی اور نسبندی کرانے والے کی امامت کا حکم
(1) جو آدمی مسجد کی امانت کھا گیا ہو۔ جس شخص نے اعلانیہ زنا کیا ہو اور پکڑا گیا ہو اور اس نے اعلانیہ تو بہ بھی نہیں کی ہو۔ درزی کا کام کرتا ہے اور بچا ہوا کپڑا اپنے کام میں لیتا ہو۔ تعویذ گنڈے کرنے کا ہدیہ ۵۱ / روپیہ یا اس سے زیادہ لیتا ہو۔ کلام پاک بالکل غلط پڑھتا ہو، جیسے ”باطِلَ “ کو ”باطِلا“، ”جاء هَل “ کو جَاهَل عَمَ يَتَسَائَلُونَ “ کو ”عَمَ يَتَسَائِلُونَ ، ایسی کئی غلطیاں ہیں۔ نماز پنجوقتہ کا پابند نہیں، برسوں سے ظہر ، عصر جماعت اکثر قصداً چھوڑ دیتا اور نماز پڑھنے کا شوق بہت زیادہ فطرہ، زکوۃ وغیر ہم کی رقم بھی جو اپنے کام میں لے لیتے ہیں جبکہ خود صاحب نصاب ہیں۔ عورت پردے میں نہیں ہے۔ شادی بیاہ میں تو کئی وقت کی نماز غائب ہو جاتی ہے، ترتیب الصلواۃ کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ان کے بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں؟ ان کی امامت درست ہے یا نہیں؟ (۲) اس کے برعکس ایک شخص ہمیشہ پنجوقتہ نماز باجماعت پڑھتا ہے،قصداً کبھی نماز قضا نہیں کرتا، اگر مجبوری میں آکر اس نے نسبندی گورنمنٹ کے دباؤ سے کرالی ہو، اور تو بہ بھی کر لی ہو، تو یہ شخص مجبوری میں نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ ایسی حالت میں جبکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا نماز پڑھانے والا نہیں ہے، اگر ہیں بھی تو فنڈے موالی یعنی کبھی پڑھ لی بھی نہیں پڑھی ، قضا ادا کا خیال نہیں، نہ کلام پاک صحیح پڑھ سکتے ہیں تو اس میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں؟ نیازمند: عبدالقیوم کمپاؤنڈر ساکن : کوٹہ ،صوبہ راجستھان
الجواب : (1) شخص مذکور کے افعال مذکورہ حرام بد کام بدانجام ہیں ، وہ امامت کے لائق نہیں ہے اور جب وہ قرآن عظیم میں غلطی کا عادی ہے تو اسے ہر گز امام نہ بنایا جائے کہ ایسی خطا سے جس سے نماز فاسد ہو جائے ، وہ مامون نہیں ہے، اور تعویذ پر اجرت لینا حرام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) شخص مذکور جبکہ جامع شرائط امامت ہے اور دوسرا کوئی اہل امامت موجود نہیں ہے تو امامت اسی کا منصب ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله