اذ ان خطبہ میں انگوٹھا چومنا منع ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ: جمعہ میں اذان ثانی میں انگوٹھا چومنا بالکل منع ہے اذا صعد الامام المنبر فلاصلوۃ ولا کلام لہذا اس صورت میں انگوٹھا نہ چوما جائے ، نام اقدس پر درود شریف بھی دل ہی دل میں پڑھیے بکر کا کہنا ہے کہ امام چوم سکتا ہے، ان میں کس کا قول صحیح ہے؟ کس کا غلط؟ المستفتی تمیز الدین اشرفی دارالعلوم منظر اسلام، بریلی شریف
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: ہاں، امام کو اجازت ہے، شامین خطہ کو نہیں۔ بکر کا کہنا صحیح ہے مگر جب لوگ اس کی دیکھا دیکھی کریں تو اسے بھی نہیں کرنا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی تحسین رضا غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۵۳–۵۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
منی کے قطرے بلا شہوت نکلنے کا حکم اور ناپسندیدہ امام کے پیچھے نماز کا مسئلہ
باب: کتاب الصلوٰۃ
مفقود الخبر شوہر کا نکاح، شراب نوشی کی توبہ اور زکوٰۃ کے نصاب کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ
دو رکعت والی نماز میں قعدہ بھول کر کھڑا ہونے اور یاد آنے پر بیٹھنے کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام کی وراثتی زمین پر اعتراضات، امامت کی اہلیت اور دیہات میں قیامِ جمعہ کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
ایک ویران مسجد کو دوبارہ آباد کرنے اور وہاں جمعہ قائم کرنے کی اجازت
باب: کتاب الصلوٰۃ