صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والے اور خود کو شیعہ کہنے والے کی امامت کا حکم
حاجی محمد نبیہ سے نذیر احمد کا جھگڑا ہوا، اس قصبہ سینتھل میں سنی شیعہ دونوں فرقے کے لوگ آباد تھے ، نذیر احمد نے کچھ شیعہ حضرات کو اپنا معاون اور مددگار بنانے کی غرض سے کہا کہ ہمارے دادا بھی شیعہ ہو گئے تھے اور ہم بھی اسی خیال کے ہیں اور صحابہ کرام اور غوث پاک کی شان میں بہت زیادہ گستاخانہ الفاظ استعمال کئے اور حاجی لوگوں کو تو جتنا برا کہہ سکتے تھے ، جگہ جگہ کہا گیا اُن کے ایک معاون دوست نے کہا کہ کعبہ کے چاروں طرف بھیڑ لگی ہوئی ہے، سرکار دو عالم نے پو چھا یہ کیسی بھیٹر ہے تو لوگوں نے کہا حضور یہ سب حاجی ہیں تو سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حاجی نہیں ہیں یہ کہتے ہیں، سور ہیں اور شیطان ہیں اور اس پر دوسرے ان کا بھتیجہ شراب پیتا ہے، بزرگان دین کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کرتا رہتا ہے، کھانا پینا ایک ہی جگہ ہے۔ روپیہ کو دوسروں کے ذریعہ سود پر اُٹھایا کرتا ہے، کھیت بھی گروی رکھے ہوئے ہے ، امتحان ۸۰ ء کے موقع پر لڑکوں نے جامع مسجد میں میلا د شریف کرایا مدح صحابہ پڑھنے کی فرمائش کی، اس پر نذیر احمد میلاد شریف چھوڑ کر گھر چلے گئے اور مولانا وزیر احمد صاحب نے لڑکوں کی فرمائش پوری کی ، ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا نذیر احد نماز پڑھانے کے لائق ہیں؟ منبر رسول پر بیٹھ کر میلاد شریف پڑھنے کے اہل ہیں؟ کیا مسجد میں تقریر کرنے یا اذان دینے کا حق رکھتے ہیں؟ مفصل طور پر جواب شرع سے لکھنے کی تکلیف فرمائی جاوے۔ نیز جولوگ ان کے معاون اور مددگار ہیں یا جو آپ کے فتویٰ پر عمل نہ کریں، ان کے لئے بھی شرع کے حکم سے مطلع کرنے کی زحمت فرمائی جاوے۔ فقط والسلام ! المستفتی: محمد کوثر على وحافظ عبدالعزیز شاه پیش امام جامع مسجد، سینتھل ، ڈاکخانہ خاص، بریلی شریف
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے جو نذیر احمد کی بابت سوال میں تحریر ہوا تو وہ امامت کے لائق نہیں اور اس کے پیچھے نماز باطل محض کہ وہ اقراری شیعہ ہے نہ اُسے منبر پر بٹھانا جائز نہ اذان دینے کا اہل نہ تقریر کرنے کے لائق اور جولوگ اس کے اس ٹھٹھے میں یا دیگر کفریات میں شریک ہوں ، وہ اسی کی طرح ہیں ، ان سب پر تو بہ و تجدید ایمان فرض اور بیوی رکھتے ہوں تو تجدید نکاح بھی لازم اور اس سے ملنے والوں پر بھی تو بہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۵/ ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ