بلا وجہ شرعی امام سے کراہت رکھنے کا وبال اور مقتدی کی نماز کا حکم
علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ: امام اور مقتدی میں کسی بنا پر دل میں کینہ ہے یا کم علمی ہے امام صاحب نماز جماعت سے پڑھا رہے ہیں اور کوئی شخص ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا، کوئی سے مراد یہ ہے کہ ایک یادو، اور اگر جماعت کے وقت مسجد میں آبھی گئے اور جماعت میں شامل ہو گئے تو بعد میں جماعت سے فارغ ہو کر مقتدی اپنی نماز دہرانے لگے اور نماز مکمل کرلی، لہذا مقتدی کو جماعت کا ثواب مل سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ امام کے پیچھے جس سے کہ دل میں شک ہے، نماز پڑھنا دل گوارہ نہیں کرتا۔ لہذا جو بھی شرع شریف کا حکم ہو، فرمادیجئے۔ بینوا توجروا المستفتی: رئیس احمد (بقلم خود ) موضع موہن پور تحصیل بیری ضلع بریلی شریف
بے وجہ شرعی امام سے کراہت رکھنے کا وبال کراہت رکھنے والے کے سر ہے، مگر نماز ہو جائے گی! الجواب: اگر امام پابند شرع جامع شرائط امامت ہے تو اس سے کراہت محض بے وجہ شرعی ہے جس کا وبال اسی کے اوپر جو کراہت کرے۔ در مختار میں ہے: ولوام قوماً وهم له كارهون ان الكراهة لفساد فيه او لا نهم احق بالامامة منه كره له ذلك تحريماً وان هو احق لا والكراهة عليهم (1) ان لوگوں کو اس سے تو بہ لازم ہے اور نمازیں دہرانا بیجا، اس سے بھی احتراز کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ