وہابیہ کے عقائد، ان سے میل جول اور غیر مسلم تہواروں میں شرکت کا حکم
وہابیہ کی طرح عقائد رکھنے والا بھی انہی میں سے ہے! وہابیہ کے پیچھے نماز پڑھنا اپنا دین کھونا ہے ! وہابیہ سے میل جول ، شادی بیاہ سب حرام ہیں! جنم اسٹمی وغیرہ تہواروں کی خوشی منانا حرام کفر انجام ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: (1) زید وہابی عقائد رکھتا ہے اور حافظ قرآن بھی ہے، محلہ کی مسجد میں کبھی کبھی امامت کے فرائض بھی انجام دیتا ہے، میلا دو سلام و نیاز و فاتحہ کا سخت مخالف ہے۔ ایسی صورت میں زید کی اقتدا میں نماز پڑھنا، اسے مسلمان جاننا، اس سے رشتہ کرنا ، اس کے ساتھ کھانا، پینا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) زید کی دو بہنیں ایک غیر مسلم کے ساتھ فرار ہوگئیں، اس میں سے ایک لڑکی منکوحہ تھی اور ایک لڑکی غیر منکوحہ تھی، کچھ دنوں کے بعد ایک مسلمان سے عقد کر لیا اور منکوحہ کے شوہر کو پتہ چلا تو اس نے طلاق دے دی اور وہ آکر زید اور زید کے گھر والوں کے ساتھ کھا پی رہی ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۳) کچھ مسلم خواتین جنم اسٹی کی تقریب کی خوشی مناتے ہوئے ، گیت گارہی تھیں، ایسی صورت میں ان کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجرو مستفتی: حافظ غلام مرسلین، دارا علوم کشتن مدینه، پلان بازار ضلع پرتاپ گواهه
الجواب: (1) فی الواقع زید بے قید اگر وہابیہ کے عقائد کفریہ رکھتا ہے یا اُن کے کفریات پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانتا ہے تو انہیں کی طرح کا فر بے دین ہے، اسے دانستہ مسلمان جاننا، اس کے پیچھے نماز پڑھنا ایمان کھونا بے دین بننا ہے اور اس سے شادی بیاہ، میل جول سب حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید اور اس کے گھر والے، اگر ان کے فعل بد سے راضی ہیں تو سخت گناہ گار ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جنم اسٹی وغیرہ مشرکانہ تہواروں کی خوشی منانا حرام بد کام کفر انجام ہے، ان عورتوں پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ صح الجواب ۔ وہ اس ہندو سے علیحدہ ہو چکی ہو تو تو بہ واستغفار کرے ورنہ فوراً اس سے علیحد ہ ہو جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی